میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہریوں کو کراچی کے انتظامی معاملات، ترقیاتی منصوبوں، اثاثوں، اراضی اور مالی امور سے متعلق معلومات تک براہ راست رسائی حاصل ہونی چاہیے، شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے، کراچی کے شہری ایک سوچ اور ایک مقصد پر متحد ہوجائیں تو کوئی طاقت انہیں ترقی کے سفر سے نہیں روک سکتی، ماضی میں جو معلومات محدود حلقوں تک رہتی تھیں اب انہیں ویب سائٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عام کیا جا رہا ہے تاکہ کراچی کے شہری ہی نہیں بلکہ پوری دنیا شہر کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات سے باخبر ہو، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈرکرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، اراکین سٹی کونسل اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ
ہماری کوشش ہے کہ جب کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ کراچی میں کیا ہورہا ہے تو اسے کسی افسر یا فائل کا محتاج نہ ہونا پڑے بلکہ تمام متعلقہ معلومات اسے آن لائن دستیاب ہوں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ویب سائٹ kmc.gos.pk پر شفافیت اور معلومات تک رسائی کے لیے نئے شعبے متعارف کرائے گئے ہیں جن میں کے ایم سی کے اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلات، ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ، کراچی کا ترقیاتی نقشہ، لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم اور دیگر اہم معلومات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کے ایم سی کی ملکیت میں کون سی زمین اور جائیدادیں ہیں، کراچی میں کون سا ترقیاتی کام جاری ہے، اس منصوبے پر کتنی لاگت آرہی ہے، کون سا ادارہ یا کنٹریکٹر کام کررہا ہے اور منصوبہ کس فنڈنگ کے تحت مکمل کیا جارہا ہے، کراچی کے ترقیاتی نقشے کے ذریعے بھی شہریوں کو معلوم ہوسکے گا کہ کون سی سڑک کہاں تعمیر ہورہی ہے، اسے کون تعمیر کررہا ہے اور وہ سڑک کے ایم سی، ٹاؤن یا کسی دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں آتی ہے،میئر کراچی نے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس کئی دہائیوں بلکہ صدیوں پرانے ملکیتی ریکارڈ موجود ہیں، جن میں بعض دستاویزات انتہائی پرانی اور خستہ حال ہیں، اس ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جارہا ہے تاکہ ریکارڈ ضائع یا تبدیل نہ ہوسکے، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی جائیداد کی منتقلی بھی نظام کے تحت خودکار انداز میں ریکارڈ ہوگی جس سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور فائلوں کے ذریعے معاملات کو روکنے یا غیرضروری رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ ختم ہوگا،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ملازمین کے مکمل ریکارڈ کو SAP نظام پر منتقل کردیا ہے، جس کا مقصد جعلی اور غیرقانونی ادائیگیوں کا خاتمہ اور ملازمین کے ریکارڈ کو شفاف بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک ہی شخص کا مختلف اداروں میں بیک وقت ملازمت یا متعدد مقامات سے مالی فوائد حاصل کرنے کا نظام ختم کرنا ضروری ہے، اسی لیے ملازمین کے ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اکاؤنٹ سے ہونے والی ہر ادائیگی کو الیکٹرانک اور اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ نظام کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہر رقم کے استعمال کا مکمل ریکارڈ موجود ہو اور مالی معاملات میں شفافیت برقرار رہے، انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں کے ایم سی کو حاصل ہونے والی آمدنی اور وصولیوں کو بھی ڈیجیٹل نظام سے منسلک کردیا جائے گا جس کے بعد ہر آنے والی رقم کا درست اور بروقت ریکارڈ دستیاب ہوگا،انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے آمدنی میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، بعض شعبوں میں جہاں ماضی میں ماہانہ وصولی 17 سے 18 کروڑ روپے کے قریب تھی، اب اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ماہ ایک محکمے سے تقریباً 30 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، ان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام کے پیسے کا درست استعمال ہو، آمدنی اور اخراجات کا مکمل حساب موجود رہے اور شہریوں کو معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ایک منصفانہ، شفاف اور جمہوری طرز حکمرانی کی جانب گامزن ہے، ایسی حکومت جو عوام کو جوابدہ ہواور ہر شہری کو معلومات تک رسائی فراہم کرے، انہوں نے کہا کہ شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کراچی کے شہریوں کا اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور شہر کی ترقی و انتظام میں بہتری آئے گی،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کردی گئی ہیں، اب کسی شہری کو یہ معلوم کرنے کے لیے کسی افسر، ڈائریکٹر یا انجینئر سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ شہر کے کس ضلع میں کون سا کام ہورہا ہے، کتنی لاگت آرہی ہے اور منصوبے پر اب تک کتنی رقم خرچ ہوچکی ہے،بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ویب سائٹ پر 733 ترقیاتی منصوبوں کی مکمل معلومات فراہم کردی گئی ہیں جن کی مجموعی لاگت تقریباً 59 ارب روپے ہے، ہر منصوبے کی لاگت، مختص بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات بھی آن لائن دستیاب ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ شفافیت کے فروغ کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات عوام کے لیے دستیاب ہیں تاکہ کراچی کا عام شہری بھی براہ راست معلومات حاصل کرسکے، انہوں نے کہا کہ میگا اسکیمز اور 16 ترقیاتی پیکیجز سمیت تمام منصوبوں کی تفصیلات کے ایم سی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، شہری یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کسی منصوبے پر کام کون سا کنٹریکٹر کررہا ہے اور اس کی مجموعی لاگت کتنی ہے،انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر شرقی ضلع کا ایک ترقیاتی منصوبہ 173 ملین روپے، پٹیل اسپتال روڈ کا منصوبہ 155 ملین روپے جبکہ مرزا آدم خان روڈ کا منصوبہ 472 ملین روپے کی لاگت سے جاری ہے، ان منصوبوں کی پیشرفت بھی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے آن لائن فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو موقع پر جاکر معلومات حاصل کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ وہ گھر بیٹھے ویب سائٹ کے ذریعے منصوبے کی صورتحال، پیشرفت اور دیگر تفصیلات دیکھ سکیں،میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی نقشے کو بھی عوام کے لیے دستیاب کردیا گیا ہے، نقشے میں مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی کام، تعمیر ہونے والی سڑکوں کی تعداد، ان کی لمبائی اور متعلقہ اداروں کی تفصیلات شامل ہیں، شہری کسی بھی منصوبے پر کلک کرکے یہ بھی معلوم کرسکیں گے کہ سڑک کہاں سے کہاں تک تعمیر ہورہی ہے، اس کی مجموعی لاگت، منظور شدہ رقم، اب تک ہونے والے اخراجات، موجودہ صورتحال اور تکمیل کی مدت کیا ہے،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی پہلی مرتبہ عوام کے سامنے لائی جارہی ہیں، ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی زمینوں، دکانوں، بس ٹرمینلز اور دیگر اثاثوں سے متعلق معلومات محدود حلقوں تک رہتی تھیں لیکن اب ان تفصیلات کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے عوام کے لیے قابل رسائی بنایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ نظام ابھی بہتری کے مرحلے میں ہے، اس میں مزید درستگی اور تفصیلات شامل کی جائیں گی تاکہ ہر اثاثے کے بارے میں معلوم ہوسکے کہ وہ کس کے پاس ہے، کب الاٹ ہوا اور اس سے متعلق مکمل ریکارڈ کیا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کسی کے ذہن میں کسی بھی سرکاری اثاثے یا ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ E-KMCکے ذریعے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انتظامی اور مالی امور کو بھی ڈیجیٹل کیا جارہا ہے، الیکٹرانک ادائیگیوں کے نظام سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور فائلوں کے ذریعے معاملات کو روکنے یا غیرضروری تاخیر کا سلسلہ ختم ہوگا،انہوں نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے دعوے کرنے کے بجائے حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں، ماضی میں کراچی کی ترقی کے لیے 300 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے، لیکن آج یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اس رقم سے کراچی میں کتنے نئے اسپتال بنے، کراچی سرکلر ریلوے بحال ہوئی یا نہیں، کتنے ملین گیلن پانی کو ٹریٹ کیا گیا، حب ریزروائر کی صفائی ہوئی یا نہیں اور حب کینال پر کتنا کام کیا گیا، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ دور میں کراچی میں کئی ایسے منصوبے مکمل اور شروع کیے گئے ہیں جن سے شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ حب کینال پر طویل عرصے بعد کام ہورہا ہے، حب ریزروائر کی صفائی کی گئی ہے جبکہ TP-1اور TP-3 کے ذریعے سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ سمندر کو آلودگی سے محفوظ رکھا جاسکے، میئرکراچی نے کہا کہ کراچی میں شاہراہ بھٹو 38 کلومیٹر طویل چھ لین ایکسپریس وے ہے جس سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں مستفید ہورہی ہیں جبکہ شہر میں مزید اہم رابطہ سڑکوں اور ایکسپریس ویز پر بھی کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ گلستان جوہر، پہلوان گوٹھ، ڈالمیا اور راشد منہاس روڈ پر شہریوں کو سفری مشکلات سے نجات دلانے کے لیے چکور نالہ ایکسپریس وے پر بھی کام کیا جارہا ہے جس سے ان علاقوں میں ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے،انہوں نے کہا کہ کراچی میں ماضی کے اختلافات اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرکے ترقی اور کام کی بات کرنا ہوگی،کراچی کے شہریوں نے بہت مشکل دور دیکھا ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، پرامن اور ترقی یافتہ کراچی فراہم کریں، انہوں نے کہا کہ تنقید یا الزام تراشی کے بجائے حقائق اور کارکردگی کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے اور کراچی کے عوام کو بتایا جائے کہ ان کے لیے کیا کام کیا گیا ہے،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ترقیاتی منصوبوں، اثاثوں اور مالی معاملات کی معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جس میں شہری اپنے شہر کے وسائل، منصوبوں اور اخراجات کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرسکیں، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کراچی میں شفاف اور جوابدہ بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جارہا ہے۔






