فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے ذیلی اداروں کی کارکردگی مزید موثر بنانے کے لئے قوانین میں اہم ترامیم کی جارہی ہیں، ڈاکٹر کرن خورشید

سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آپریشنز ونگ، قانونی مشیروں اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی،پامرا پنجاب فوڈ اتھارٹی، ڈائریکٹوریٹ جنرل انفورسمنٹ، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کنزیومر پروٹیکشن اور سلاٹر ہاؤس ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ڈاکٹر کرن خورشید نے ہدایت کی کہ تمام ضروری قانونی ترامیم کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اداروں کی کارکردگی مزید مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنائی جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ شکایات کے ازالےکے لیے متعلقہ ٹیموں کو واضح ٹائم لائنز جاری کرنے کی بھی ہدایات کی گئیں۔مجوزہ ترامیم کے تحت چیئرپرسن اور اتھارٹیز کے ممبران کی نامزدگی کا طریقہ کار رولز آف بزنس 2011 کے مطابق ترتیب دینے، اتھارٹیز کی تشکیلِ نو، اور سیکرٹری زراعت و سیکرٹری خزانہ کو بورڈز میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔اجلاس میں زرعی مارکیٹنگ، ایگرو بزنس اور زرعی اجناس کی نئی تعریفیں شامل کرنے، پیکنگ کی سرگرمیوں کو بھی زرعی مارکیٹنگ کا حصہ قرار دینے اور پامرا کو زرعی منڈیوں اور مارکیٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ریگولیٹ کرنے کے اختیارات دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔اس کے علاوہ فوڈ اتھارٹی،پامرا اور حلال ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو رجسٹریشن فیس مقرر کرنے، نئی آسامیوں کے قیام یا خاتمے، اور ضوابط کے ذریعے معاوضوں و اعزازیوں کی منظوری کے اختیارات دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد قانونی خامیوں کا خاتمہ، زیرِ التوا مقدمات میں کمی، اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور زرعی مارکیٹنگ و فوڈ سیفٹی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ساتھ ہی موجودہ ملازمین کے سروس رائٹس، پنشن اور ریٹائرمنٹ قوائد کے مکمل تحفظ کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔

جواب دیں

Back to top button