مشیر وزیر اعلیٰ ذیشان ملک کا ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور ڈی سی علی اعجاز کے ہمراہ فیروز پور روڈ، نشتر کالونی، عطا بخش روڈ اور کماہاں لدھر روڈ کا دورہ

مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب ذیشان ملک نے ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور ڈی سی لاہور علی اعجاز کے ہمراہ فیروز پور روڈ، نشتر کالونی، عطا بخش روڈ اور کماہاں لدھر روڈ کا دورہ کیا۔مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب ذیشان ملک نے ایل ڈی اے اور ایم سی ایل کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیااوروزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر فیروز پور روڈ کے 15 کلومیٹر ایریا کی اپ گریڈیشن کے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایاگیاکہ ایل ڈی اے فیروز پور روڈ پر 15 کلومیٹر سڑک کے دونوں اطراف اپ گریڈیشن کا کام کرے گا۔کینال بینک روڈ سے گجومتہ تک اربن ریجنریشن کے تحت فیروز پور روڈ کی اپ گریڈیشن کی جائے گی۔مشیر وزیر اعلی پنجاب کوبریفنگ میں بتایاگیاکہ فیروز پور روڈ پرہسپتالوں کے سامنے تجاوزات کا خاتمہ اور ڈراپ لین بھی منصوبے کاحصہ ہو گا۔فیروز پور روڈ پر فلائی اوورز کے نیچے سیٹینگ ایریا ڈویلپ کیا جائے گا۔منصوبے کے مطابق تجاوزات کا خاتمہ، فٹ پاتھ کی تعمیر اور یونیفارم ڈویلپمنٹ کی جائے گی۔فیروز پور روڈ پر فساڈ کی اپ گریڈیشن کی جائے گی اور پارکنگ کے لیے جگہیں بھی بنائی جائیں گی۔بریفنگ میں بتایاگیاکہ عبد الستار ایدھی انڈرپاس کوبھی سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ماڈل پر خوبصورت بنایا جائے گا۔مشیر وزیر اعلی پنجاب ذیشان ملک نے ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر لاہور کے ہمراہ عطا بخش روڈ کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پر انہیں بریفنگ میں بتایاگیاکہ ایل ڈی اے عطا روڈ کے بقیہ 2.5 کلومیٹر سڑک کو بھی سسٹین ایبل ماڈل پر اپ گریڈ کرے گا۔واضح رہے کہ عطا بخش روڈ کے 6 کلومیٹر ایریا کو ایل ڈی اے مکمل کر چکاہے۔اس موقع پرذیشان ملک نے نشتر کالونی اور عطاء بخش روڈ پر ایم سی ایل کے جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا۔انہیں بریفنگ میں بتایاگیاکہ کماہاں لدھر روڈ پر ایل ڈی اے نے سڑک کا 45 فیصد کام مکمل کر لیاہے۔کماہاں لدھر روڈ پر سڑک کے اطراف سٹرام واٹر ڈرین اور دو لین، دو رویہ سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔اس روڈ پر لیسکو بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کا کام کر رہا ہے۔اس موقع پرڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید نے ترقیاتی کاموں کی پیش رفت بارے بریفنگ دی۔چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید، سی ای او ایم سی ایل کلیم یوسف، اسسٹنٹ کمشنر کاہنہ،ایل ڈی اے ، پی ایچ اے، واسااور ایم سی ایل کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

جواب دیں

Back to top button