*ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایت پر ایل ڈی اے میں انفورسمنٹ انسپکشن رجیم کے لئے نئے ایس اوپیز نافذالعمل کر دیئے گئے*

ایل ڈی اے نے غیر قانونی تعمیرات اور غیرقانونی کمرشل املاک کے خلاف شفاف کارروائی کا نیا نظام نافذکر دیا، ڈیجیٹل فائل پروسیسنگ سسٹم کے ذریعے تمام نوٹسزکیو آرکوڈ پر مبنی،جیو ٹیگڈ تصاویر اور ریکارڈ کی آن لائن مانیٹرنگ ہوگی۔غیر قانونی تعمیرات، لینڈ یوز قوانین کی خلاف ورزی اور بقایاجات کی عدم ادائیگی پر نوٹس، سیلنگ اور مسماری کی کارروائیاں ڈیجیٹل مانیٹر کی جائیں گی۔سیل شدہ املاک کو جرمانے کی ادائیگی، بحالی یا باقاعدہ منظوری کے بعد ہی ڈی سیل کیا جائے گا۔نئے ایس او پیز کے مطابق املاک کو غیرقانونی تعمیرات،پہلے سے موجود عمارت کے استعمال میں غیرقانونی تبدیلی اور واجبات کی عدم ادائیگی والی تین کیٹیگریز میں تقسیم کیاگیاہے۔ ایل ڈی اے میں پہلی بار کسی بھی املاک کی ڈی سلینگ کاریکارڈ بھی ڈیجیٹلی مرتب کیاجائے گا۔نئے ایس او پیز میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ کے اختیارات و ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ایل ڈی اے میں نئے ایس او پیز نافذکرنے کا مقصدفیلڈ آپریشنز کو ٹرانسپیرنٹ کرنا ہے،ٹاون پلاننگ ونگ کے تمام زونز کسی بھی املاک کی مسماری یا سیلنگ کی کارروائی کے لیے متعلقہ چیف ٹاون پلانرزکو مطلع کریں گے۔غیر قانونی کمرشل املاک کی نشاندہی اور نوٹسز کی واپسی کے فیصلوں،غیرقانونی کمرشل کیخلاف کارروائی کے لیے چیف ٹاون پلانر ایل ڈی اے کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ چیف آئی ٹی آفیسر، ڈائریکٹر ریونیو،ڈائریکٹر لاء اورمتعلقہ ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔ اب املاک کوغیر قانونی کمرشل املاک ڈیکلئر کرنا،نوٹس جاری کرنا،نوٹس کی واپسی یاتصحیح کے معاملات کمیٹی دیکھے گی۔ کمیٹی ہر جائیداد کے مکمل حقائق، منصوبہ بندی، قانونی اور ریونیو پوزیشن پر غور کرے گی۔ کمیٹی پراپرٹی کا منظور شدہ یاغیر منظور شدہ بلڈنگ پلان،عارضی ومستقل کمرشلائزیشن اوراس کی قانونی حیثیت دیکھے گی۔نئی قائم کی گئی کمیٹی جائیداد سے متعلق کوئی شکایت، انسپکشن رپورٹ،عدالتی سٹے آرڈر،حکم امتناعی وغیرہ کے معاملات دیکھے گی۔کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے پہلے سے دی گئی کوئی منظوری، استثنیٰ، کمپوزیشن،ریگولرائزیشن کے معاملات بھی کمیٹی دیکھے گی۔کمیٹی کسی بھی پراپرٹی کے بقایا جات،جرمانے،ریونیو،ڈیجیٹل ریکارڈ یا سائٹ سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال کرے گی۔کمیٹی کافیصلہ اور معاون ریکارڈ ڈیجیٹیل سسٹم پر اپلوڈ کیا جائے گا۔کوئی بھی تصحیح یا بعد کی تبدیلی سسٹم کے آڈٹ ٹریل کے ذریعے ہوگی۔نئے ایس او پیز کے مطابق غیر قانونی کمرشل استعمال پر 15 دن،غیر قانونی تعمیرات پر 5 دن کا موقع دیا جائے گا۔جاری کیے گئے ایس اوپیز پر کسی کی قسم کی لاپرواہی اور غفلت کی صورت میں عملے کیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button