مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور لاھور سمیت بڑے شہروں سے میڑو پولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کے مئیر کا عہدہ ختم کرنا لوکل گورنمنٹ سسٹم کو کمزور کرنے اور بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے مترادف ھو گا۔مئیر کا انتخاب ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر براہ راست ھونا چاہئے۔مختلف ادوار میں دیگر اداروں یا اتھارٹیز کو بلدیاتی اداروں سے چھینے گئے آئینی اختیارات لوٹائے جائیں۔مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور مالی خود مختاری دی جانی چاھئیے۔ صوبائ حکومتیں صوبائ سطح پر اختیارات کا ارتکاز ختم کریں۔انہوں نے اپنے موقف کو دہرایا اور کہا کہ پراونشل فنانش ایوارڈ کے ذریعے مرکز اور صوبے سے حاصل شدہ وسائل ضلعی سطح پر منتقل کیے جائیں۔ایک ایک شہر میں چھ چھ اتھارٹیز ایک ھی کام کریں گی تو کام کیسے چلے گا ؟؟بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنا وقت کی اھم ضرورت ھے میونسپل کمیٹیوں ، کارپوریشنز اور کینٹونمنٹ بورڈز کے علاوہ یہی کام کرنیوالے باقی تمام اداروں کا وجود آئین سے متصادم ھے۔عوامی مسائل کا واحد حل بلدیاتی ادارے ہیں جہاں عوام اپنے نمائیندوں سے آزادانہ مل کر اپنے مسائل بیان بھی کرتے ہیں اور فوری حل بھی نکلتا ھے اور بلدیاتی اداروں کا تاثر ہمیشہ سے عوام کے دلوں میں اپنائیت والا رھا ھے
لاھور شہر میں ڈی ایچ اے کے بعد سب سے خوبصورت ہاوسنگ سکیمز بلدیاتی اداروں سے منظور کی گئیں ہیں اور عوام ان سوسائٹیز کے اندر رہنا ترجیح دیتے ہیں جبکہ ایل ڈی اے کی اپنی بنائی گئی سکیمز میں ایک ڈی اے ملازمین خود رہنا پسند نہی کرتے ۔اسی طرح روڈا اتھارٹیز نے گرین ایریاز میں ہاوسنگ سکیمز تھوک کے حساب سے منظور کر دیں ہیں اور یہ تک خیال نہی کیا کہہ ان سکیمز کے اندر رہنے والے لوگ اور موجودہ لاھور شہر کے 3 کروڑ عوام کھانے پینےوالی اشیا کہاں سے لیں گے روڈا کے منصوبے ایسے ہی ہیں جیسے نالہ لئی پر بستیاں جو ہر سال موسم مون سون میں بہہ جاتی ہیں۔بلدیاتی اداروں کو ایک سازش کے تحت پہلے کمزور کیا گیا پھر ان اداروں کے آفیسرآن اور ملازمین کو نالائق اور رشوت خور کہہ کر اتھارٹیز کا قیام لا کر اختیارات بیوروکریسی کو دے دئے گئے ،ان اتھارٹیز نے خلاف آئین خکاف عوام فیصلے کر کے ریاست اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کیں ریاست کے ادارے عوام کی بلدیاتی اداروں بارے رائے لیں گے تو 100 فیصد انکے حق میں رائے دیں گے۔بلدیاتی اداروں کو پورے اختیارات کے ساتھ بحال کیا جائے اور اتھارٹیز کو ختم کیا جائے۔
