مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی آواز کو بھارتی ظلمِ و جبر سے دبایا جارہا ہے،عثمان غنی

مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی آواز کو بھارتی ظلمِ و جبر سے دبایا جارہا ہے۔کشمیر کے نوجوان آج اپنی شناخت، مستقبل اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، مگر اکثر انہیں دبانے کی کوششیں بھی سامنے آتی ہیں۔ بھارتی فورسز کی سخت کارروائیاں، گرفتاریوں اور تشدد کے خوف نے احتجاجی جذبے کو دبانے میں مسلسل کوشش کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہارنوجوانوں کی مشہور تنظیم سعادت یوتھ فورم کے صدرو گروپ ایڈیٹر سعادت انٹرنیشنل گروپ آف پبلکشنز عثمان غنی نے 27 اکتوبر کشمیر بلیک ڈے پر ریڈیو پاکستان لا ہورکے ایک پروگرام کیلئے کیا انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947سے لے کر ابتک 2025ءمیں بھارتی ظلمِ و جبر اورکشمیریوں کی جدوجہدِ خود ارادیت کی ایک طویل کالی داستان ہے۔بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پرمسلسل ظلم کررہا ہے۔اور پاکستان کی پاک فوج کشمیریوں کو حق زندگی دلانےکیلئے1947ءسے کوشش کررہی ہے اور بھارتی دہشت گردی مظالم کو ہر محاذ پر مقابلہ کررہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خاموش تماشائی بننے کے بجائے، اس اندھیری رات میں انصاف کی شمع روشن کرے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے ٹھوس اقدام کرئے۔

جواب دیں

Back to top button