بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین کی نمائندہ تنظیم لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن نے مجوزہ وفاقی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

موجودہ مہنگائی نے بلدیاتی ملازمین کا جینا دو بھر کر دیا ہے جب کہ مجوزہ وفاقی بجٹ میں ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافے پر کچھ ناعاقبت اندیشوں کے خوشامدی طرز عمل کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بھوک، ننگ ، افلاس اور فاکوں کے باوجود بھی اپنا حق نہ ملنے پر بھی بے جا تعریفوں کے پل باندھ رہےہیں اور یہ جاننے کے باوجود کہ چھوٹے گریڈ کے ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور مجوزہ وفاقی بجٹ میں ملازمین و پنشنرز کی تنخواہ اور پنشن میں صرف 7 فیصد اضافہ کہاں کا انصاف ہے مجوزہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔جب کہ مجوزہ بجٹ میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے روزمرّہ ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی قوت خرید بالکل ختم ہو گئی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز گزشتہ کئی مہینوں سے فنڈز کی عدم دستیابی اور متعلقہ محکموں کے ناعاقبت اندیش آفسروں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے خصوصی گرانٹ کے عدم اجراء سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی سے دوچار ہیں اور ان کے بچے فاکوں کے شکار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے مجوزہ وفاقی بجٹ میں کی گئی مہنگائی اور تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا قلیل سات فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے ایک تولہ سونا کے برابر تنخواہیں اور پنشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت سے سال 27-2026 کے مجوزہ بجٹ میں بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی بذریعہ اکاؤنٹ فور یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button