وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ریپ،بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لئے فول پروف پلان طلب کر لیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ریپ، بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ریپ، بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لیے فول پروف پلان طلب کر لیا۔ پنجاب کے 43 اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں جن کاباقاعدہ افتتاح جلدکر دیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں مزید 2,000 سے زائد نئے سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر سیف سٹی پراجیکٹ کی مزید 98 تحصیلوں اور کچے کے علاقوں تک توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیاہے۔ سی ٹی ڈی میں توہینِ رسالت کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی سیل قائم کر دیا گیاہے۔ اجلاس میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی سائبر یونٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ قبائلی علاقوں کی ترقی اور سکیورٹی کے لیے مزید اہلکاروں کی فورس میں شمولیت کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے موبائل پولیس سٹیشنز کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو شہری تھانے نہیں آ سکتا، پولیس خود اس کے گھر پہنچ کر داد رسی کرے۔ سی سی ڈی کے قیام کے بعد صوبے میں کرائم ریٹ میں واضح کمی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین اور بچے میری ریڈ لائن ہیں،خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس اپنائیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک پولیس اہلکاروں کے لیے 29 ہزار باڈی کیمرے فراہم کر دئیے جائیں گے۔ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوچکا 72 ہزار سے زائد آئمہ کرام کے لیے 10 ارب روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ صوبے بھر سے اب تک 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی کا عمل مکمل کیا گیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گی کہ سال 2026ء میں اب تک 23,243 غیر قانونی باشندوں کو ڈی پورٹ کیا گیاہے۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 5,127 غیر قانونی افغان باشندے ہولڈنگ سنٹرز منتقل کیے گئے ہیں۔ پنجاب بھر میں ساڑھے 12 لاکھ افراد کی دستاویزی اور بائیومیٹرک تصدیق مکمل کی گئی ہے۔ ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button