سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور ،و زراء حکومت میاں عبدالوحید، سردار جاوید ایوب چوہدری قاسم مجید ،ظفراقبال ملک ،سید بازل علی نقوی، سردار ضیاء القمر اور محترمہ نبیلہ ایوب کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی ۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ معزز ایوان 05اگست 2019کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آرٹیکل 370اور دفعہ 35 اے میں ترمیم کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ نیز عالمی برداری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر سیکورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ یہ معزز ایوان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آٹھ لاکھ قابض بھارتی افواج پیرا ملٹری فورسز کے مظالم اور انسانی حقوق کی آزادیوں پر قدغن کو بھارتی جمہوریت اور سیکولر ازم پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیتا ہے۔

یہ معزز ایوان معرکہ حق بنیان مرصوص میں کامیابی پر مسلح افواج پاکستان بالخصوص چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کو بھرپور خراج تحسین پیش کر تاہے اور فخر پاکستان چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ولولہ انگیز قیادت سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر کے ایوانوں میں اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کر تاہے ۔یہ معزز ایوان مارواۓ آئین کشمیریوں کے قتل عام ،نوجوانوں کے جعلی پولیس مقابلے میں شہادتوں اور خواتین کی اجتماعی عصمت دری ، کریک ڈاؤن ،گھر گھر گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔اسمبلی اجلاس کے دوران سابق وزیرصدر و وزیر اعظم /ایم ایل اے سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیاکہ قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس وفاقی وزراء کی طرف سے راولاکوٹ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر دیے گئے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ بالخصوص وزیر دفاع کے منصب پر بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف جس نے راولاکوٹ کے لوگوں کو کشمیری تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ اس معزز ایوان کی رائے میں وزیراعظم پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ جناب سپیکر یاداش بخیر 1832کو زندہ کھالیں کنچھوانے والوں کا تعلق اسی دھرتی سے تھا۔ 23مارچ 1940کو قراردادپاکستان میں کشمیریوں کی نمائندگی کرنے والے غلام حیدر جنڈالوی، سمیت 19جولائی 1947کو الحاق پاکستان کی قرارداد اوربانی صدر غآزی ملت سردار محمد ابراہیم خان بھی اسی دھرتی کے بیٹے تھے۔ آزادی کی جنگ کے ہیروز کیپٹن حسین خان شہید ،خان آف منگ خان محمد خان جسیے اکابرین کی قربانیوں سے انکار پر افسوس ہے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے راولاکوٹ اور ریاست کے دیگر علاقوں اور بیرون ملک کشمیر یوں پر منفی اثرات مرتب ہوئےہیںَاس معزز ایوان کی توسط سے یہ مطابہ کرتا ہوں کہ چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دی گئی
Truth and reconciliation Commission
کے قیام کی تجوزیز پر عملدرآمد کیا جائے اور اس وقت تک راولاکوٹ میں کسی بھی کاروائی کو روکا جائے۔ نیز الیکشن کمیشن صاف اور شفاف الیکشن کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میرپور ڈویژن کے اندر حالیہ الیکشن میں جو بے ضابطگیاں کی گئیں ،ان کو دور کر کے الیکشن کروائے جائیں۔ یہ ہمارے لوگ ہیں ہمیں ان سے بات کرنے ہو گی ۔ الیکشن اپنی جگہ پر لیکن دو طرفہ نقصان ہمارا ہے۔ ہمارا دشمن بھارت پوری دنیا میں اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ جناب سپیکر موجود ہ صورتحال میں
Truth and reconciliation Commission
ہی واحد حل ہے۔جواس صورتحال سے ریا ست کو مزید انتشار سے بچا سکتا ہے۔ ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اآزادکشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ راولاوکوٹ اور دیگر جگہوں پر عوام اور فورسز کی شہادتوں کو ناقابل تلافی نقصان قراردیتا ہے۔موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ریاست میں مزید جانی نقصان سے بچا جائے۔ ایسی نازک صورتحال میں بعض سیاسی راہنماؤں کی جانب سے آزادکشمیر کے عوام کو بالعموم بھارتی آلہ کار قراردینا تاریخی حقائق کے منافی ہے اورآزادکشمیر کے لوگوں کا ریاست پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے کی توہین ہے ۔ اس معزز ایوان کی رائے میں ریاست پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی پشت بان ہے اور پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی اداروں کی کشمیر کے حوالہ سے دی گئی تمام قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ ایوان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر ایک کمیشن مقرر کر کے آزادکشمیر میں امن کو ایک موقع اور فراہم کیا جائے۔






