وفاق کی طرف سے پیٹرول قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی افسوسناک ہے،وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نےصوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی طرف سے پیٹرول قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، اس اضافے کا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر مسلط ہونے والوں کا وطیرہ صرف اپنی جیبیں بھرنا ہے، عوامی ریلیف ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔پیٹرول کی قیمتیں جس طرح بڑھ رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں۔ایک طرف پیٹرول قیمتوں میں اضافہ، دوسری طرف قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔74 سال میں 43 ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا، موجودہ جعلی حکومت نے پانچ سال میں قرضہ 97 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔74 سال میں لیے گئے قرضے سے زیادہ قرضہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں پاکستان پر چڑھا دیا، یہ بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ پس رہا ہے، دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان میں مس ایڈونچرز کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ملک اور عوام کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ان کا وطیرہ ہے۔پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا بیان صرف ایک صوبے نہیں، ریاست پاکستان کے بیانیے کے خلاف ہے۔پاکستان مخالف بھارتی بیانیے کو دنیا میں پذیرائی ملنے کی وجہ ایسے بیانات ہیں۔خیبرپختونخوا کے خلاف وفاقی وزراء کے بیانات کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت میں تشویش ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں، کیا یہ خیبرپختونخوا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں؟ ایک ادارے کا ڈی جی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف ویڈیوز چلا کر پریس کانفرنسز کرتا ہے، دوسری طرف عدلیہ کا جج کمنٹس پاس کرتا ہے۔کیا یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں یا پاکستان کو کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں؟ یہ پاکستان ہم سب کا ہے، چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا رویہ نفرتیں بڑھائے گا، جو پاکستان اور اداروں کے لیے اچھا نہیں۔خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفادات میں بہترین سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔گزشتہ مالی سال 130 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد جمع کیے، رواں مالی سال 180 ارب روپے کا ہدف ہے۔نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کریں گے، یہ ہوتی ہے اصلی عوامی خدمت اور عوامی مفادات،غیر متعلقہ لوگ حکومتی اور محکمانہ امور میں مسلسل مداخلت کر رہے اور افسران کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بطور اسپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے تھے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں کے لیے بھرپور سکروٹنی کی گئی، میرٹ اور مکمل کاغذات رکھنے والی کمپنیاں ہی کوالیفائی ہوئیں۔نامکمل کاغذات، جعلی بینک گارنٹی اور سفارشوں کی بنیاد پر آنے والی کمپنیاں ڈس کوالیفائی ہوئیں۔یہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، غلط کام اور میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔میرٹ اور شفافیت پر پورا اترنے والی کمپنی کو کنٹریکٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں، غلط طریقے سے کنٹریکٹ لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔خیبر پختونخوا کے افسران میرٹ، شفافیت، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔میں اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں، افسران کو ڈرانے یا دھمکانے والوں کے خلاف آخری حد تک کھڑا رہوں گا۔

جواب دیں

Back to top button