خیبر پختونخوا ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے دوسرے اجلاس میں5 ارب روپے سے زائد مالیت کی 8 سکیموں کی منظوری

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے دوسرے اجلاس کا انعقاد ہوا۔حکومت خیبرپختونخوا نے ضلع چترال اپر میں نرسنگ کالج کے قیام کی منظوری دے دی۔ منصوبے پر 50 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ مقامی سطح پر نرسنگ کالج کے قیام سے معیاری تعلیم کی فراہمی، طبی خدمات میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی جناب اسلام زیب کی زیر صدارت صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فورم ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں سال 2026-27 کے لیے 8 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور وسعت بڑھانے پر غور کیا گیا جن کی مجموعی لاگت 5 ارب سے زائد ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی اور عدالتی نظام کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

صحت کے شعبے میں 4 منصوبوں کے دائرہ کار بڑھایا گیا۔ان میں مانسہرہ کے گورنمنٹ مینٹل اینڈ جنرل ہسپتال میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بحالی اور پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں حادثات و ایمرجنسی یونٹ اور آئی سی یو کی اپگریڈیشن۔ اس کے علاوہ لکی مروت کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ٹراما سنٹر شامل ہیں۔انصاف کی فراہمی کے لیے قانون و انصاف سے متعلق 3 منصوبوں کا دائرہ کار بڑھایا گیا۔ ان میں درگئی ملاکنڈ، ٹل ہنگو، شبقدر چارسدہ، ٹانک اور طوطالئی بونیر میں جوڈیشل کمپلیکس کے قیام کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی شامل ہے۔ اس کے علاوہ نتھیا گلی ایبٹ آباد میں جوڈیشل لاجز کی توسیع اور پشاور میں آر سی جی 13 میں جوڈیشل لاج میں اضافی سوئٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں عوام کو بروقت علاج معالجہ میسر آئے گا۔ اسی طرح عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری سے عام شہری کو سستا اور فوری انصاف ملے گا اور حکومت کا انصاف تک رسائی کا وژن عملی شکل اختیار کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button