وزارتِ ریلوے،حکومتِ پاکستان اور حکومتِ خیبرپختونخوا کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط

وزارتِ ریلوے،حکومتِ پاکستان اور حکومتِ خیبرپختونخوا کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی موجودگی میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔فریقین نے ریلوے کے شعبے میں مشترکہ کوششوں کو خیبرپختونخوا اور پاکستان کی ترقی کے لیے سنگِ میل قرار دیتے ہوئے عملی اقدامات تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد سے صوبے میں ریلوے کی توسیع اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی۔ گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ پشاور ویلی ریلوے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطہ شامل کیا جائے گا، جبکہ مردان، چارسدہ اور پشاور، طورخم ریلوے روابط کو بھی منصوبے کے آئندہ مراحل میں شامل کیا جائے گا۔ جدید ریلوے روابط سے لاکھوں مسافروں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کو بہترین سفری سہولت میسر آئے گی۔ وفاقی وزیر ریلوے کا تعاون قابلِ تحسین ہے، یہ معاہدہ عوامی فلاح اور صوبے کی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔ ریلوے روابط میں بہتری سے صوبے میں تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔خیبرپختونخوا میں بعض معاملات وفاقی حکومت سے متعلق ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان شعبوں کو مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ امید ہے کہ ریلوے کے ان منصوبوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔ معاہدے پر دستخط یقینی بنانے پر دونوں طرف کے متعلقہ حکام خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ہم وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کا تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے قومی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ ٹرین نیٹ ورک نسبتاً سستا اور آرام دہ ذریعۂ سفر ہے۔ وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں، یہ ہمارا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔ ہم پشاور میں آؤٹر رنگ روڈ پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ مالی سال صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون کو عوامی سہولیات اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منفرد کانسیپٹ ہے جس کے دیرپا نتائج سامنے آئیں گے۔ دیگر صوبوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ ریلوے ایسا نیٹ ورک ہے جو تمام صوبوں کو جوڑتا ہے۔ عوامی فلاح حدود و قیود سے بالاتر ہے۔ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بھرپور تعاون یقینی بنائیں گے اور تیز رفتاری سے آگے بڑھیں گے۔

معاہدے کے اہم نکات:

⬅️ معاہدے کے تحت وفاقی ریلوے موجودہ انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی سہولت کے ساتھ تکنیکی تعاون بھی فراہم کرے گا۔⬅️ خیبرپختونخوا میں مختلف ریلوے منصوبوں کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

⬅️ خیبرپختونخوا حکومت تاریخی ریلوے اسٹیشنز کی بحالی اور تزئین و آرائش کرے گی۔ رواں اے ڈی پی میں اس مقصد کے لیے 50 کروڑ روپے مختص ہیں۔⬅️ وفاقی حکومت کی موجودہ ریلوے سہولیات کو صوبے میں سب اربن ریلوے سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا۔⬅️ نوشہرہ – جہانگیرہ ریلوے روٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔ اس روٹ کی فزیبلٹی کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ 30 اگست تک ایوارڈ کر دیا جائے گا۔⬅️ نوشہرہ، مردان اور درگئی ریلوے رابطے کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔⬅️ تاریخی ریلوے ورثے کی بحالی بھی فریم ورک معاہدے کا حصہ ہوگی۔⬅️ وفاقی حکومت کی جانب سے نیا ریلوے منصوبہ شروع کیے جانے کی صورت میں خیبرپختونخوا حکومت انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔بہتر ریلوے رابطہ – بہتر سفری سہولت، فروغ پاتی تجارت و سیاحت، اور مضبوط خیبرپختونخوا

جواب دیں

Back to top button