وفاقی حکومت نے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت سے بھی اضافی رقم کا تقاضا کیا تھا۔ اس وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ اگر ایف بی آر 15,260 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا ہدف حاصل کرتا ہے تو خیبر پختونخوا کا حصہ تقریباً 175 ارب روپے بنتا ہے، جبکہ ماضی کی طرح اگر ایف بی آر ہدف سے کم محصولات حاصل کرتا تو خیبر پختونخوا کو ملنے والی رقم بھی اسی تناسب سے کم ہوتی۔میں نے اصولی طور پر اس رقم کی فراہمی کو اپنے قائد عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔ دوسری شرط یہ رکھی گئی تھی کہ ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں ان کا آئینی اور جائز حصہ دیا جائے۔ اس کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی، بصورت دیگر 7ویں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وزیراعظم اور صدر کو سمری بھجوا کر آئینی طریقہ کار کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ہماری یہ دوسری شرط فوری طور پر تسلیم کر لی گئی اور اسے باقاعدہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ بھی بنایا گیا۔چونکہ بجٹ سے قبل میرے قائد عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی، اس لیے خیبر پختونخوا حکومت نے آج کی تاریخ تک اس اضافی رقم کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ کوئی مفاہمتی یادداشت منظور یا دستخط نہیں کی۔ میں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی اس پوزیشن کو واضح کیا تھا اور اسی اصول کے تحت مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی یہ رقم شامل نہیں کی گئی۔اس کے باوجود 5 اگست 2026 کو، جس روز ہم اپنے قائد عمران خان کی تین سالہ قید کے خلاف پشاور میں ایک عظیم الشان جلسہ کر رہے تھے، وفاقی حکومت کی وزارتِ خزانہ نے خیبر پختونخوا کو واجب الادا جولائی 2026 کے وفاقی مالیاتی منتقلیوں میں سے 6.4 ارب روپے کی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی۔وفاقی حکومت کے اس اقدام کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کی رضامندی نہ پہلے حاصل کی گئی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس مجوزہ کٹوتی کی منظوری دی۔ اس بات کی باضابطہ تصدیق خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے 13 اگست 2026 کو اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کو لکھے گئے خط میں بھی کر دی ہے۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مجوزہ کٹوتی کو خیبر پختونخوا حکومت نے نہ منظور کیا ہے اور نہ اس سے اتفاق کیا ہے۔اسی سرکاری خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گردش کرنے والی مفاہمتی یادداشت نہ صوبائی کابینہ نے منظور کی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس پر دستخط کیے۔ مزید یہ کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں بھی اس مجوزہ انتظام کے لیے کوئی بجٹ رقم مختص نہیں کی گئی۔یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے اپنے باضابطہ خط میں واضح کیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 164 کسی صوبے کو آئینی طور پر واجب الادا رقوم میں وفاق کی جانب سے یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا۔ صوبے کے آئینی مالیاتی حق میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔ محض کسی انتظامی یا حسابی ہدایت کے ذریعے صوبے کے آئینی مالیاتی حق میں کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔میری ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے فوری طور پر اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر کے متعلقہ افسران سے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں بھی واضح کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی رضامندی کے بغیر اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باقاعدہ تحریری ہدایات بھی جاری کر دی ہیں کہ 6.4 ارب روپے یا اس مد میں کسی بھی رقم کی کوئی کٹوتی، اندراج، ردوبدل یا حسابی کارروائی خیبر پختونخوا حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر نہ کی جائے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر ایسی کسی لین دین کو درج یا نافذ نہ کیا جائے۔خیبر پختونخوا حکومت پہلے ہی میری ہدایت پر اپنے قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر چکی ہے۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری حکومت خیبر پختونخوا کے آئینی، مالیاتی اور قومی مالیاتی کمیشن کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی ایسے مفاہمتی یادداشت یا انتظام کی بنیاد پر، جسے صوبائی حکومت نے نہ منظور کیا ہو اور نہ اس پر دستخط کیے ہوں، صوبے کے واجب الادا مالیاتی حصے سے یکطرفہ طور پر رقم منہا کرے۔ہم اس غیر آئینی اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ خیبر پختونخوا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب ہر قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی راستہ اختیار کرے گا اور اپنے حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گا۔
Read Next
35 منٹس ago
خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کیا جائے گا،متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
42 منٹس ago
بھامالاہری پور،سیٹھی ہاؤس پشاور،بریکوٹ سوات اور گور گھٹری پشاور یونیسکو کی عالمی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل
24 گھنٹے ago
*خیبرپختونخوا، یومِ آزادی پر گلوبل ورچوئل سکول سے ڈیجیٹل تعلیم کے نئے دور کا آغاز*
24 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سپین خاک،نوشہرہ میں پودا لگا کر میگا شجرکاری مہم کا افتتاح کردیا
2 دن ago
لوکل گورنمنٹ مسودہ 2026 کو مکمل مسترد کرتے ہیں،لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا
Related Articles
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس،محکمہ لوکل گورنمنٹ کو صاف پانی کی فراہمی کا ٹاسک دے دیا
2 دن ago
*محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا میں شفافیت اور جواب دہی کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس*
2 دن ago
رواں مالی سال کے لئے ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا،محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
3 دن ago



