محمد سہیل آفریدی نے نئی ہائبرڈ بسوں،پنک بس سروس اور چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن و مال آف حیات آباد ڈپو کا افتتاح کر دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئی ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس اور چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن و مال آف حیات آباد ڈپو کا افتتاح کر دیا۔بی آر ٹی روزانہ ڈھائی لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کر رہی ہے، جن میں 30 فیصد خواتین شامل ہیں۔وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بی آر ٹی کے ذریعے سالانہ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ہو رہی ہے۔بی آر ٹی کی مسلسل توسیع اس منصوبے کی کامیابی کا ثبوت ہے، مزید 52 نئی بسیں شامل کی جا رہی ہیں۔ 52 نئی بسوں کی شمولیت سے بی آر ٹی بسوں کی مجموعی تعداد 296 ہو گئی ہیں ۔نئی بسوں سے مزید روٹس کھولنے اور موجودہ روٹس پر مسافروں کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔خواتین مسافروں کی خصوصی ضروریات کے پیش نظر پنک بس سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے۔چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن سے سالانہ 7 کروڑ 60 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔چمکنی ڈپو میں ایک میگاواٹ سولر سسٹم مکمل، سالانہ 14 لاکھ 40 ہزار یونٹس بجلی پیدا ہوگی۔ مزید 50 بسوں اور 6.2 ارب روپے کی لاگت سے نئے ڈپو کی خریداری اور تعمیر کا عمل جاری ہے۔مزید 50 بسیں موجودہ اے ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، منصوبے پر 5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ بی آر ٹی کی مکمل سولرائزیشن کیلئے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بی آر ٹی منصوبے کی مکمل سولرائزیشن کے بعد بجلی کے اخراجات میں مزید کمی آئے گی۔ پاکستان میں اس وقت مکمل طور پر الیکٹرک بس سروس موجود نہیں، بی آر ٹی نے یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئی ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس اور چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن و مال آف حیات آباد ڈپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے صوبے کی خواتین کیلئے پنک بسوں کا وعدہ کیا تھا، آج پنک بسیں سڑکوں پر موجود ہیں۔پنک بسوں میں سفر کرنے والی خواتین کیلئے کرایہ 25 فیصد کم ہوگا، پنک بسوں کی خواتین ڈرائیورز دوسری خواتین کیلئے رول ماڈل ہیں۔جو لوگ خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد کہتے ہیں وہ آج دیکھیں کہ ہم خواتین کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔یہ پختون معاشرہ ہے، خواتین اور بزرگوں کا احترام ، بچوں پر شفقت اور حب الوطنی ہمارے خون میں ہے۔کوئی یہاں گھروں اور خواتین کی حرمت پامال کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ٹی وی پر بیٹھ کر خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے جوڑنے والے تین مسخرے ہمارے پولیس، فوج اور سول شہداء کا مذاق اڑا رہے ہیں۔4 اکتوبر کا لانگ مارچ ان شاء اللہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا۔

کسی دھمکی یا خوف سے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، ہمارا مقصد حقیقی آزادی ہے، کرسی نہیں۔ جنہیں عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے اقتدار میں لایا گیا، انہیں دھمکیاں دیں، ہمیں نہیں۔ہم عوامی مینڈیٹ کے ذریعے حکومت میں آئے ہیں، ہمارا ہر قدم اور پالیسی عوام کی فلاح کیلئے ہوگی۔خیبرپختونخوا کے عوام کو کسی قسم کی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے۔عوامی مینڈیٹ سے آنے والے حکمران عوام کا سوچتے ہیں، 11 ارب روپے کے طیارے اور جامنی رنگ کے انٹیریئر والی گاڑیاں نہیں خریدتے۔ تین روزہ ای سی او کانفرنس کیلئے وفاقی حکومت نے 6 ارب روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدیں، گاڑیاں کرائے پر بھی لی جا سکتی تھیں۔بند کمروں میں خیبرپختونخوا کیلئے فیصلے کرنے والوں اور صوبے کو تجربہ گاہ بنانے والوں کو میز پر لائیں گے۔ہمارے عوام تکلیف میں ہیں اور ہمارے لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہ سکتا۔ خیبرپختونخوا کی پالیسی عوام کو تکلیف دینے والی ہو تو اسے ہر صورت تبدیل کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button