مراد علی شاہ نے سندھ ساحلی تحفظ منصوبے کا افتتاح کردیا،ٹھٹہ،سجاول اور بدین اضلاع میں تقریباً 87 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز سندھ ساحلی تحفظ منصوبے (ایس سی آر پی) کا افتتاح کیا۔ 31 کروڑ 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 87 ارب روپے) مالیت کا یہ اہم موسمیاتی موافقت اور ترقیاتی منصوبہ ٹھٹھہ، سجاول اور بدین اضلاع میں ساحلی علاقوں کی کمزور آبادیوں کے تحفظ، اہم ماحولیاتی نظام کی بحالی اور روزگار کے ذرائع کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔سندھ حکومت، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) شراکت داری کے تحت اس منصوبے پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ افتتاحی تقریب کا اہتمام چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ نے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، اعلیٰ سرکاری افسران اور عطیہ دہندگان و شراکت داروں نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے منصوبے کو سندھ کی ساحلی آبادیوں کے لیے ’’تبدیلی کے سفر کا آغاز‘‘ قرار دیا، جو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی آبادیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج محض ایک اور ترقیاتی منصوبے کا افتتاح نہیں ہورہا بلکہ ٹھٹھہ، بدین اور سجاول کی ساحلی آبادیوں کے لیے ایک تبدیلی کے سفر کا آغاز ہے۔ یہ وہ آبادیاں ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کی صف اول میں کھڑی ہیں اور جن کی لچک، روزگار اور مستقبل ہمارے ساحلی ماحولیاتی نظام کی صحت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کی ساحلی پٹی صوبے کے قیمتی ترین معاشی اور ماحولیاتی اثاثوں میں شامل ہے، جہاں زراعت، ماہی گیری، مویشی پالنے اور مینگرووز کے ماحولیاتی نظام کو سہارا ملتا ہے، تاہم اسے سمندری پانی کی دراندازی، سیم و تھور، پانی کے جمع ہونے، سیلاب اور شدید موسمی واقعات سے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے ان چیلنجز سے نمٹنا محض ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ ترقیاتی ناگزیر ضرورت ہے۔ موسمیاتی لچک کا مطلب لوگوں کا تحفظ، روزگار کا تحفظ، پیداواری اثاثوں کا تحفظ اور ان قدرتی نظاموں کی بحالی ہے جو زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھتے ہیں۔

*موسمیاتی تحفظ کا پروگرام*

سندھ کوسٹل ریزیلینس پروجیکٹ کے تحت روزگار، کمیونٹی انفراسٹرکچر، پانی کے انتظام اور ماحولیاتی نظام کی بحالی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو ایک مربوط فریم ورک کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ آئی ایف اے ڈی کے تعاون سے چلنے والے حصے کے تحت یہ منصوبہ ساحلی آبادیوں میں غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے پر براہ راست توجہ دے گا۔ توقع ہے کہ تینوں ساحلی اضلاع کے 500 دیہات میں تقریباً ایک لاکھ 96 ہزار گھرانے، یعنی تقریباً 10 لاکھ افراد، اس سے مستفید ہوں گے۔ پروگرام میں موسمیاتی اعتبار سے بہتر زراعت، ماہی گیری، ویلیو چین کی ترقی، مالیاتی شمولیت، کمیونٹی انفراسٹرکچر اور روزگار کے ذرائع میں تنوع کے اقدامات شامل ہوں گے۔

*ایس سی آر پی، آئی ایف اے ڈی*

منصوبے کی دستاویزات کے مطابق تقریباً 43 ہزار نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 30 ہزار کمزور گھرانوں کو معاشی گریجویشن پروگرامز کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی، جن کا مقصد انہیں پائیدار روزگار کے ذرائع حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ منصوبے کے روزگار اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ جزو کی تخمینی لاگت 30 ارب 45 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدامات ایک سادہ لیکن اہم حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں: لچک اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب خاندانوں کی آمدنی محفوظ ہو، کمیونٹیز کے پاس معاشی مواقع ہوں اور نوجوانوں کو مستقبل کے لیے امید حاصل ہو۔

*پانی کا انتظام اور سیلاب سے تحفظ*

ایس سی آر پی کا ایک بڑا جزو آبپاشی، نکاسی آب اور سیلاب سے نمٹنے کے نظام میں بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک رکھنے والے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ منصوبے کے تحت نگان ڈھورو، گھوڑا باری، گھارو، پیر پٹھو بھورا، جاتی اور ملکا نی ڈرینز سمیت آٹھ بڑے نکاسی آب کے نظام کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سیلاب سے تحفظ کے ڈھانچوں کو مضبوط، آبپاشی کے چینلز کو بہتر، میٹھے پانی کے ذخیرے اور زیر زمین پانی کے ری چارج میں اضافہ اور کمیونٹی کی سطح پر پانی کے انتظام کے نظام کی معاونت کی جائے گی۔ آبپاشی اور جنگلات کے محکموں کی جانب سے اے ڈی بی اور جی سی ایف کے تعاون سے نافذ کیے جانے والے انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے جزو کی تخمینی مالیت 56 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔

*آبپاشی اور جنگلات*

مراد علی شاہ نے کہا کہ ان اقدامات سے تقریباً ایک لاکھ 57 ہزار 130 ہیکٹر زرعی اراضی میں پانی کے انتظام اور موسمیاتی لچک کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور سالانہ تقریباً 8 ارب 95 کروڑ روپے کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو روکا جاسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار سے ہٹ کر، اس کا مطلب کسانوں کے لیے زیادہ تحفظ، آبادیوں کے لیے بہتر حفاظت اور مقامی معیشت کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔

*مینگرووز کی بحالی*

منصوبے کے ایک بڑے ماحولیاتی ستون کے تحت سندھ کے قدرتی ساحلی دفاعی نظام کو بحال اور مضبوط کیا جائے گا۔ پروگرام میں 15 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر مینگرووز کی شجرکاری، 6 ہزار ہیکٹر سے زائد اندرونی علاقوں میں شجرکاری، آبی علاقوں کی بحالی اور پناہ جھیل کی بحالی شامل ہے۔ سائنسی بنیادوں پر انتظام اور تحفظ کی کوششوں میں معاونت کے لیے فاریسٹ مینگروو ریسورس سینٹر بھی قائم کیا جائے گا۔

*مربوط ترقی*

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ ساحلی اضلاع کو غربت، سیلاب، نمکین پانی کی دراندازی، پیداواری زمین کی تباہی اور بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات جیسے باہم مربوط چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور طویل مدتی ردعمل درکار ہے۔جام خان شورو نے زور دیا کہ یہ منصوبہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ماحولیاتی بحالی اور روزگار میں بہتری کو ایک متحد فریم ورک کے تحت یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ مربوط طریقہ کار ضروری ہے کیونکہ لچک صرف بنیادی ڈھانچے سے متعلق نہیں۔ اس کا تعلق لوگوں، روزگار، زمین، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظام کے مجموعی تحفظ سے ہے۔‘‘

*موسمیاتی اقدامات کے لیے شراکت داری*

وزیراعلیٰ نے سندھ میں آئی ایف اے ڈی کی شمولیت کا خیرمقدم کیا اور صوبے اور اس کے عوام پر اعتماد کرنے پر تنظیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اے ڈی بی اور جی سی ایف کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی شراکت داری سندھ کو طویل مدتی اور پائیدار حل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے لاحق بعض انتہائی اہم خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گی۔مراد علی شاہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ آبادیوں کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور آنے والی نسلوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا، جس سے بالآخر زیادہ محفوظ، سرسبز، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور خوشحال ساحلی سندھ کی تشکیل میں مدد ملے گی۔پاکستان میں آئی ایف اے ڈی کی کنٹری ڈائریکٹر فرنانڈا تھوماز دا روچا نے کہا کہ سندھ کوسٹل ریزیلینس پروجیکٹ سیلاب، سیم و تھور اور معاشی دھچکوں کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے کے لیے دیہی آبادیوں کی لچک مضبوط بنانے کے لیے ہماری مشترکہ کوشش ہے۔ اس کی بنیاد ایک سادہ یقین پر ہے کہ آبادیوں کی لچک میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ پائیدار انداز میں پیداوار، آمدنی، سرمایہ کاری اور ترقی کرسکیں۔آئی ایف اے ڈی کی جانب سے منصوبے میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور نوجوان ایس سی آر پی کے اہم شرکا ہیں۔ یہ شمولیت کا معاملہ بھی ہے اور معاشی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ جب خواتین اور نوجوانوں کو اثاثوں، مہارتوں اور مالی وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو گھرانے اور مقامی معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری آپریشنز ہیڈ نسّانکا امیلا سالگادو نے کہا کہ یہ منصوبہ اے ڈی بی کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ 15 سال سے زائد عرصے میں سندھ میں زراعت، خوراک، قدرتی ماحول اور دیہی ترقی کے شعبوں میں ہماری پہلی بڑی سرمایہ کاری ہے اور اس لیے یہ ہماری شراکت داری کی تجدید اور صوبے میں مزید گہری شمولیت کی بنیاد دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ نے کہا کہ ایس سی آر پی ساحلی آبادیوں کو درپیش باہم مربوط چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کوسٹل ریزیلینس پروگرام ایک مربوط فریم ورک کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار میں بہتری، ماحولیاتی بحالی اور کمیونٹی کی لچک کو یکجا کرتا ہے۔افتتاحی تقریب کے دوران پی سی ایم یو کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نذیر احمد میمن نے منصوبے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

جواب دیں

Back to top button