وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کونسل کا اجلاس

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ سکیمز ریگولیشنز 2024 میں مجوزہ ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے غیر منظور شدہ اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی قانونی حیثیت کے تعین اور منظوری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔🔹 تمام غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے رجسٹریشن درخواست کی کٹ آف تاریخ مقرر کی جائے۔ مقررہ مدت میں درخواست نہ دینے یا مطلوبہ تقاضے پورے نہ کرنے والی اسکیموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔🔹 غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں کو قانونی دائرے میں لانا ہاؤسنگ ریگولیشنز میں توسیع کا بنیادی مقصد ہے۔🔹 وزیراعلیٰ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے علاوہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے لیے لبکا کے تحت بلڈنگ پلان کی منظوری کا مرکزی نظام وضع کرنے کی ہدایت کی۔ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کی انٹیگریشن یا مرکزی نظام سے متعلق دو ہفتوں میں حتمی لائحہ عمل پیش کیا جائے۔🔹 لبکا کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے 21 نئی آسامیوں کی تخلیق کی تجویز پر غور کیا گیا۔🔹 انلسٹمنٹ و تجدید فیس اسٹرکچر اور یکساں ملبہ فیس کی منظوری سے متعلق امور پر غور کیا گیا، جبکہ مجوزہ فیس اسٹرکچر اور یونیفارم ملبہ فیس سے اصولی اتفاق کیا گیا۔🔹 پانچ مرلے تک کے رہائشی نقشوں کو ملبہ فیس سے استثنیٰ** دینے کی تجویز کو فنانس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 لبکا اور ٹی ایم ایز کے درمیان موجودہ ریونیو شیئرنگ فارمولا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ فارمولے کے تحت لبکا کا حصہ 25 فیصد جبکہ ٹی ایم ایز کا حصہ 75 فیصد ہے۔🔹 لبکا کے نظرِ ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2025-26 اور بجٹ برائے سال 2026-27 کی بھی منظوری دے دی گئی۔🔹 کونسل کے تحت فنانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی، جو مالی اثرات کے حامل امور پر حتمی سفارشات پیش کرے گی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ”غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کا تدارک، پائیدار شہری ترقی اور ٹی ایم ایز کو مضبوط بنانا بیک وقت ضروری ہے۔ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کا مؤثر نفاذ اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔”

جواب دیں

Back to top button