حکومت سندھ نے جمعہ کو صوبے میں پہلی مرتبہ صنفی مساوات سے متعلق رپورٹ جاری کردی، جو صوبے میں صنفی مساوات کی صورتحال کا ایک اہم جائزہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہدف پر مبنی اصلاحات کریں، صنفی بنیادوں پر حساس طرز حکمرانی کو مضبوط بنائیں اور خواتین و لڑکیوں کے لیے تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور نمائندگی تک رسائی بہتر بنائیں۔رپورٹ وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ کے انسانی حقوق سے متعلق خصوصی معاون راج ویر سنگھ سوڈھو نے پیش کی۔ رپورٹ صوبے میں صنفی عدم مساوات اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے پہلی جامع صوبائی بنیاد فراہم کرتی ہے، جس میں صحت، تعلیم، انصاف، طرز حکمرانی، معاشی شمولیت اور آبادیاتی صورتحال سمیت اہم شعبے شامل ہیں۔ رپورٹ میں زچگی کی صحت، خواتین کے روزگار اور سیاسی شرکت میں نمایاں بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے، تاہم خواندگی، اسکولوں میں داخلے، افرادی قوت میں نمائندگی، ڈیجیٹل رسائی اور فیصلہ سازی کے عہدوں میں صنفی فرق برقرار رہنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔رپورٹ کی بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اسے ایک اہم پالیسی ٹول قرار دیا جو سندھ بھر میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور ادارہ جاتی اصلاحات کی رہنمائی کرے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صنفی مساوات صرف سماجی انصاف کا معاملہ نہیں بلکہ پائیدار ترقی کے لیے بھی ایک بنیادی تقاضا ہے۔ رپورٹ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ کہاں پیش رفت ہوئی ہے اور کہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم ان نتائج کو صوبے بھر میں خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے والی پالیسیوں اور پروگراموں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے خواتین کو بااختیار بنانے کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں حوصلے، جمہوری اقدار اور صنفی مساوات کی عالمی علامت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنی سیاسی جدوجہد خواتین کو بااختیار بنانے، بنیادی حقوق کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے وقف کی۔ ان کا وژن ایک زیادہ جامع اور مساوی سندھ کی تعمیر کے لیے ہماری کوششوں کی رہنمائی جاری رکھے ہوئے ہے۔وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پالیسیوں، پروگراموں اور ترقیاتی اقدامات کو رپورٹ کے نتائج سے ہم آہنگ کریں۔ انہوں نے محکموں کو صنفی بنیادوں پر الگ الگ اعداد و شمار کے نظام کو مضبوط بنانے، نگرانی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، اداروں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کے عمل میں خواتین کی ضروریات اور نقطہ نظر کو شامل کیا جائے۔انہوں نے خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور عوامی نمائندگی میں موجود فرق کو دور کرنے کے لیے ضلعی سطح پر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔رپورٹ کے مطابق 2023 میں سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، جس میں سالانہ 2.57 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا، جبکہ ہر 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 108.76 رہی۔رپورٹ میں صحت کے شعبے میں مسلسل پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں سرکاری مختص رقم 2023-24 میں 214.5 ارب روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 267.54 ارب روپے ہوگئی اور 2025-26 میں مزید بڑھ کر 318.22 ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 314 سے نمایاں کمی کے بعد 224 اموات ہوگئی، جبکہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 24 رہی۔
ان پیش رفتوں کے باوجود تعلیم کا شعبہ صوبے کے اہم ترین چیلنجز میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق مردوں میں خواندگی کی شرح 68 فیصد جبکہ خواتین میں 47 فیصد ہے، جبکہ دیہی خواتین میں خواندگی کی شرح انتہائی کم ہوکر 27.52 فیصد ہے۔ پانچ سے 16 سال کی عمر کی 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد لڑکیاں اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، جو فوری اور مسلسل اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔انصاف کے شعبے میں بھی خواتین کی نمائندگی کم ہے، پولیس فورس میں خواتین کا حصہ صرف 4.34 فیصد، پراسیکیوٹرز میں 18.3 فیصد اور ججز میں 13.7 فیصد ہے۔ رپورٹ میں 2024 کے دوران صنفی بنیادوں پر تشدد کے 3,085 رپورٹ شدہ کیسز بھی درج کیے گئے ہیں، جو مضبوط حفاظتی طریقہ کار اور انصاف تک بہتر رسائی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے راج ویر سنگھ سوڈھو نے اسے سندھ کے انسانی حقوق کے فریم ورک میں ایک اہم سنگ میل اور صنفی بنیادوں پر حساس پالیسی سازی کی بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی جامع صوبائی تشخیص ہے جس میں متعدد شعبوں سے صنف سے متعلق اشاریوں کو ایک واحد تجزیاتی فریم ورک میں یکجا کیا گیا ہے۔ یہ پالیسی سازوں کو خلا کی نشاندہی، پیش رفت کا جائزہ لینے اور ہدف پر مبنی اقدامات مرتب کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد فراہم کرتی ہے۔رپورٹ میں طرز حکمرانی، سیاسی شرکت اور معاشی شمولیت کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا رجحانات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ خواتین کے ووٹر رجسٹریشن کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 2018 میں 23 سے بڑھ کر 2024 میں 53 ہوگئی۔اسی طرح افرادی قوت میں خواتین کی شرکت 43.8 فیصد سے بڑھ کر 46.2 فیصد ہوگئی، جبکہ ملازمت کرنے والی خواتین کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی۔ تاہم رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل رابطے، مالی شمولیت، مہارتوں کی ترقی، کاروبار اور باعزت روزگار تک رسائی سے متعلق رکاوٹیں خواتین کی مکمل معاشی شرکت میں اب بھی حائل ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ ہدف پر مبنی سرمایہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور صنفی بنیادوں پر حساس ترقیاتی منصوبہ بندی کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسا سندھ تشکیل دینا ہے جہاں ہر عورت اور لڑکی کو سیکھنے، کام کرنے، قیادت کرنے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اس رپورٹ کے نتائج ہمیں اس سفر کو تیز کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگرچہ سندھ نے کئی شعبوں میں قابل پیمائش پیش رفت حاصل کی ہے، تاہم پورے صوبے میں جامع، مساوی اور صنفی بنیادوں پر حساس ترقی کے حصول کے لیے مسلسل اصلاحات، مضبوط ادارے، ضلعی سطح پر بہتر اعداد و شمار کے نظام اور ہدف پر مرکوز سرمایہ کاری ناگزیر ہوگی۔






