وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سےنابینا طالب علم ہنس راج کی ملاقات،کراچی انٹر بورڈ کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تھانہ بولا خان سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم طالب علم ہنس راج کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعزاز سے نوازا، جو تعلیمی کامیابی، خودمختاری اور عزم کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ہنس راج نے 2025 کے کراچی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن (بی آئی ای کے) کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انہیں اپنی کامیابیوں اور معذوری رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ مواقع کے فروغ کی کوششوں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔تقریب میں این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکمہ (ڈی ای پی ڈی) کے سیکریٹری طحہٰ فاروقی سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

*عزم کا سفر*

ہنس راج کم عمری میں اپنی بینائی سے محروم ہوگئے تھے اور بینائی ختم ہونے کے بعد تین سال تک اسکول سے باہر رہے۔ انہوں نے کم عمری میں اپنے والد کو بھی کھو دیا تھا، جس کے باعث ان کے خاندان کو ان کی آئندہ تعلیم کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ان کی زندگی اس وقت تبدیل ہوئی جب انہوں نے ڈی ای پی ڈی کی شراکت دار تنظیم ایدا ریو میں داخلہ لیا، جہاں انہیں تعلیمی معاونت، ہاسٹل کی سہولت اور خودمختاری پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔آج وہ این ای ڈی یونیورسٹی میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کا سی جی پی اے 3.93 ہے۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ تعلیم بھی جاری رکھی۔ایک اہم پیش رفت میں آئی کیپ نے تصدیق کی ہے کہ ہنس راج نے جولائی 2026 میں منعقدہ پری ریکوزیشنٹ کمپٹینسیز (پی آر سی) امتحان کامیابی سے پاس کرلیا ہے جس کے بعد وہ سی اے ایف امتحان میں شرکت کے اہل ہوگئے ہیں۔ہنس راج نے کہا کہ ان دو زندگیوں کے درمیان پل ایدا ریو تھا، جسے حکومت سندھ اور ڈی ای پی ڈی کی معاونت نے مزید مضبوط کیا۔ اس ادارے نے انہیں تعلیم، ہاسٹل، خودمختاری اور مواقع فراہم کیے۔

*کمپیوٹر پر بی آئی ای کے امتحان دینے والے پہلے نابینا طالب علم*

ہنس راج کمپیوٹر پر بی آئی ای کے کے امتحانات دینے والے پہلے نابینا طالب علم بن گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابل رسائی ٹیکنالوجی بصارت سے محروم طلبہ کے لیے تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرسکتی ہے۔تعلیمی میدان سے آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے ایک بین الاقوامی روئنگ مقابلے میں کانسی کا تمغہ بھی جیتا اور ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کی تقریبات میں بہترین مندوب کے اعزازات حاصل کیے۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایدا ریو کے لیے ایک مکمل طور پر قابل رسائی ویب سائٹ بھی تیار کر رہے ہیں، جس میں ایک مربوط چیٹ بوٹ شامل ہوگا۔ یہ منصوبہ اس وقت تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

*جامع تعلیم زندگیوں کو بدل سکتی ہے*

عالمی یوم خواندگی کے موقع پر وزیراعلیٰ اور حکومت سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہنس راج نے کہا کہ ان کا تجربہ اس بات کا مظہر ہے کہ معذوری رکھنے والے افراد کی زندگیوں میں تعلیم تبدیلی کی کتنی بڑی طاقت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواندگی کے ذریعے معذوری رکھنے والے افراد کو بااختیار بنانا زندگیوں کو تبدیل کرسکتا ہے، خاندانوں اور برادریوں کو مضبوط بنا سکتا ہے، معاشی خودمختاری کے راستے پیدا کرسکتا ہے اور ایک زیادہ جامع، مستحکم اور مضبوط پاکستان کی تعمیر میں کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ، ڈی ای پی ڈی اور ایدا ریو کے کردار کو سراہا جنہوں نے معذوری رکھنے والے طلبہ کو اپنے بصارت رکھنے والے ہم جماعتوں کے برابر مواقع تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ہنس راج نے کہا کہ ایدا ریو کے طلبہ بورڈ میں پوزیشنیں حاصل کرتے رہے ہیں، جبکہ تقریباً 19 طلبہ نے جامعات میں داخلہ حاصل کیا ہے، جہاں وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ میرٹ پر مقابلہ کر رہے ہیں۔

*وزیراعلیٰ کا مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا اقدام کا اعلان*

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سندھ بھر کی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے گوگل اور میٹا کی مصنوعی ذہانت کی مفت کلاسز کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ دی جائے گی۔اس اقدام کا مقصد یونیورسٹی طلبہ کے لیے جدید ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں تک رسائی کو وسعت دینا اور نوجوانوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ شعبوں میں ابھرنے والے مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔وزیراعلیٰ کی جانب سے ہنس راج کو اعزاز سے نوازنا حکومت سندھ کے معذوری رکھنے والے افراد کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور زیادہ خودمختاری کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

*تھانہ بولا خان سے این ای ڈی اور آئی کیپ تک*

ہنس راج کا سفر، ایک ایسے نابینا بچے سے جو اسکول سے باہر ہوگیا تھا، بی آئی ای کے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم، این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علم، بین الاقوامی ایتھلیٹ اور آئی کیپ کے پی آر سی امتحان میں کامیاب امیدوار تک، اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ تعلیم اور معاونت تک رسائی سے کیا کچھ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔آئی کیپ میں ان کی حالیہ کامیابی نے ان کے پیشہ ورانہ سفر میں اگلا دروازہ کھول دیا ہے، یعنی سی اے ایف امتحان۔ہنس راج کے لیے یہ سفر صرف ذاتی کامیابی کا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کا بھی ہے کہ معذوری رکھنے والے دیگر بچوں کو بھی سیکھنے، مقابلہ کرنے، کامیابی حاصل کرنے اور خودمختار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

جواب دیں

Back to top button