وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو صوبے میں گندم کے ذخیرے کی صورتحال اور ضبط شدہ گندم کے اسٹاک کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ یکم اکتوبر سے سرکاری گندم فلور ملز کو جاری کرنا شروع کی جائے تاکہ سندھ بھر میں مارکیٹ میں گندم کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صارفین کو سستا آٹا دستیاب کر کے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گندم کے اسٹریٹجک ذخائر، بروقت خریداری، مؤثر مارکیٹ مداخلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور مصنوعی قلت و قیاس آرائی پر مبنی کاروباری طریقوں سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیں گے۔انہوں نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، ضبط شدہ گندم کے اسٹاک کی اٹھائی اور ترسیل کا عمل تیز کیا جائے اور گندم کے اجرا کے پروگرام کے آغاز سے کافی پہلے خریداری اور لاجسٹکس سے متعلق تمام انتظامات مکمل کیے جائیں۔اجلاس میں صوبائی وزراء مکیش کمار چاؤلہ، جام خان شورو اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار شریک ہوئے، جبکہ وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں، وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر، مشیر گیان چند اسرانی اور معاون خصوصی جبار خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران محکمہ خوراک نے حکومت کے پاس دستیاب گندم کے ذخائر، ضبط شدہ اسٹاک، خریداری کے منصوبوں اور درآمدی انتظامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
*ضبط شدہ گندم کے ذخائر*
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 226,918 میٹرک ٹن گندم ضبط کرکے اس کا حساب مکمل کیا گیا ہے۔ اس میں سے 57,122 میٹرک ٹن فلور ملز میں موجود اور اٹھائی کے لیے تیار ہے، جبکہ 169,796 میٹرک ٹن غیر مجاز ذخائر رکھنے والے تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں سے ضبط کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ 25,365 میٹرک ٹن گندم قانونی مقدمات کے باعث زیرِ التوا ہے، جس کے نتیجے میں 144,431 میٹرک ٹن گندم اٹھانے کے لیے دستیاب ہے۔ اب تک 59,223 میٹرک ٹن گندم خریداری اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں تک منتقل کی جاچکی ہے، جبکہ مزید 85,208 میٹرک ٹن گندم اٹھانا باقی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ خوراک اٹھائی گئی گندم کے اسٹاک کے عوض پہلے ہی 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کرچکا ہے۔ضلعی سطح پر کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ خوراک کے حکام کو ہدایت کی کہ باقی ماندہ اسٹاک کی منتقلی تیز کی جائے، بالخصوص ان اضلاع میں جہاں گندم اٹھانے کی شرح کم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام قانونی طور پر دستیاب گندم بلا تاخیر حکومتی تحویل میں لائی جائے تاکہ اسے مارکیٹ میں مداخلت اور قیمتوں کے استحکام کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکے۔
*اکتوبر سے گندم کے اجرا کا منصوبہ*
وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ یکم اکتوبر سے فلور ملز کو گندم کے اجرا کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فراہمی کا نظام شفاف اور مؤثر رہے۔مراد شاہ نے کہا کہ گندم کے ذخائر جاری کرنے کا مقصد مارکیٹ میں دستیابی بڑھانا، ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کرنا اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے صارفین کو عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے محکمہ کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کے رجحانات پر کڑی نظر رکھی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری گندم کا فائدہ آٹے کی کم قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچے۔
*پاسکو سے گندم کی خریداری*
محکمہ خوراک نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ پاسکو سے 190,000 میٹرک ٹن سے 223,455 میٹرک ٹن تک گندم خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کا انحصار منصفانہ اوسط معیار کی گندم کی دستیابی پر ہوگا۔وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں نے اجلاس کو بتایا کہ گندم کی ترسیل کا ٹینڈر پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے اور اسے 22 ستمبر 2026 کو کھولا جائے گا۔ محکمہ نے باردانہ اور دیگر لاجسٹک ضروریات کی خریداری بھی شروع کردی ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت اور مؤثریت یقینی بنائی جائے اور حکام مقررہ مدت کے اندر تمام انتظامات مکمل کریں۔انہوں نے کہا کہ پاسکو سے بروقت گندم کی خریداری اور سرکاری ذخائر کے اجرا سے مارکیٹ میں گندم کی فراہمی بہتر ہوگی اور پورے صوبے میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
*گندم کی درآمد کا منصوبہ*
اجلاس کو وفاقی حکومت کی جانب سے گندم درآمد کرنے کے اقدام سے بھی آگاہ کیا گیا۔حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے 0.3 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ ٹینڈر اسی ہفتے کھولا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ درآمدی عمل کی کڑی نگرانی کی جائے اور بولیاں کھلنے کے فوراً بعد درآمد شدہ گندم کی کراچی تک پہنچنے کی لاگت اور اس کی فراہمی پر اثرات کا تفصیلی جائزہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو پیش کیا جائے۔مراد شاہ نے کہا کہ جہاں ضرورت ہو، وہاں گندم کی درآمد کو مقامی ذخائر میں اضافے اور مارکیٹ میں بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے۔اجلاس میں کراچی کی فلور ملز کی گندم پیسنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ اس وقت 96 فلور ملز فعال ہیں جبکہ پانچ غیر فعال ہیں۔حکام نے بتایا کہ کراچی کی 101 رجسٹرڈ فلور ملز کی مجموعی گندم پیسنے کی صلاحیت 424,473 میٹرک ٹن ہے، جبکہ سب سے زیادہ صلاحیت ملیر اور ضلع شرقی میں موجود ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ فلور مل مالکان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ گندم کے اجرا کے آغاز کے بعد گندم کی پسائی کا عمل ہموار رہے اور آٹے کی بلاتعطل پیداوار یقینی بنائی جاسکے۔
*گندم کی دستیابی کی صورتحال*
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں دستیاب گندم کے مجموعی ذخائر، جن میں گزشتہ ذخائر، موجودہ خریداری اور منتقل کی جانے والی ضبط شدہ گندم شامل ہے، تقریباً 303,829 میٹرک ٹن ہیں۔کراچی میں سب سے زیادہ 119,534 میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے، اس کے بعد لاڑکانہ میں 61,871 میٹرک ٹن اور حیدرآباد میں 54,559 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ کراچی کے لیے پاسکو کی 130,000 میٹرک ٹن گندم اور درآمد شدہ 300,000 میٹرک ٹن گندم مختص کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ حیدرآباد، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے لیے پاسکو سے گندم کی اضافی مقدار مختص کی گئی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ غذائی تحفظ اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اعلیٰ ترین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم سندھ بھر میں گندم کے وافر ذخائر کی دستیابی یقینی بنائیں گے اور صارفین کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ دینے کے لیے ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب ضبط شدہ گندم کو جلد از جلد حکومتی تحویل میں لیا جائے، پاسکو کے ساتھ خریداری کے انتظامات تیز کیے جائیں، گندم کی درآمد اور اس سے متعلق اخراجات کی کڑی نگرانی کی جائے، ضلعی انتظامیہ اور فلور ملز کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط کیا جائے، سخت انتظامی اقدامات کے ذریعے ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی روک تھام کی جائے اور گندم کے ذخائر، اجرا اور تقسیم کی جامع نگرانی کا نظام برقرار رکھا جائے۔مراد شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت آٹے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے، غذائی تحفظ یقینی بنانے اور سندھ کے عوام کے لیے گندم کی بلاتعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فعال اقدامات جاری رکھے گی۔





