میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری پارکنگ مافیا سے تنگ آچکے ہیں، شہر میں مختلف مقامات پر پارکنگ کے نام پر شہریوں سے من مانے پیسے وصول کیے جاتے ہیں جبکہ اس رقم کے سرکاری خزانے میں جمع ہونے کا بھی کوئی واضح نظام موجود نہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہریوں کی شکایات اور مطالبے پر پارکنگ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور شہر میں ڈیجیٹل و مکینیکل پارکنگ لاٹس کے قیام کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،ڈیجیٹل پارکنگ کے نظام سے شہریوں کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کتنے گھنٹوں کے لیے کتنی رقم ادا کی ہے جبکہ کے ایم سی کو بھی ہر پارکنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ہائپر اسٹار بیچ ویو پارکنگ کلفٹن میں اسمارٹ پارکنگ سسٹم کا افتتاح کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،
اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سٹی کونسل اراکین، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود تھے، اسمارٹ پارکنگ سسٹم کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کلفٹن شہر کا اہم تجارتی اور تفریحی علاقہ ہے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ آتی ہے، ایسے اہم مقامات پر پارکنگ کے بہتر انتظامات شہری سہولیات کی فراہمی کا اہم حصہ ہیں، اسمارٹ پارکنگ سسٹم کا قیام شہریوں کو جدید سہولت فراہم کرنے اور پارکنگ کے موجودہ مسائل کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے،انہوں نے کہا کہ اسمارٹ پارکنگ سسٹم کے ذریعے پارکنگ کے انتظامات کو مزید مؤثر اور منظم بنایا جائے گا اور شہریوں کو گاڑیاں پارک کرنے میں آسانی حاصل ہوگی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پارکنگ کے عمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نظام میں شفافیت اور کارکردگی بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے پہلے شہر میں تقریباً 40 سے 45 مقامات پر پارکنگ کی سہولت فراہم کی جاتی تھی جن میں روڈ پارکنگ اور پارکنگ لاٹس شامل تھے تاہم روڈ پارکنگ کے حوالے سے شہریوں کو درپیش مسائل اور شکایات کے باعث کے ایم سی نے اپنی سڑکوں پر پارکنگ کے تمام معاہدے ختم کردیئے ہیں اور واضح کردیا ہے کہ کے ایم سی کی جانب سے کسی سڑک پر پارکنگ فیس وصول نہیں کی جائے گی،اس فیصلے کے باوجود بعض ٹاؤنز کی جانب سے مختلف علاقوں میں روڈ پارکنگ فیس وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں جس سے شہریوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ رقم کے ایم سی وصول کررہی ہے حالانکہ کے ایم سی کا اس وصولی سے کوئی تعلق نہیں،انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اضافی رقم کی ادائیگی سے بچانے اور پارکنگ کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے شہر میں 10 مقامات پر مکینیکل اور ڈیجیٹل پارکنگ لاٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے خریداری کا عمل مکمل کرکے ٹینڈر فائنل اور کام کا ٹھیکہ بھی دیدیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان 10 ڈیجیٹل پارکنگ لاٹس میں سے پہلے پارکنگ لاٹ کا آغاز آج کلفٹن میں ڈولمن مال کے قریب کردیا گیا ہے جہاں گاڑی پارک کرنے کے لیے آنے والے شہری باقاعدہ نظام کے تحت پارکنگ میں داخل ہوں گے اور انہیں ڈیجیٹل سلپ فراہم کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ شہری جب پارکنگ میں داخل ہوں گے تو مقررہ مقام پر بٹن دبانے سے پارکنگ سلپ حاصل ہوگی اور واپسی پر جتنے وقت کے لیے گاڑی پارک کی گئی ہوگی اسی حساب سے مقررہ فیس ادا کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ اس نظام کا مقصد شہریوں سے اضافی رقم وصول کرنے کے عمل کو ختم کرنا ہے کیونکہ بعض مقامات پر مقررہ فیس کم ہونے کے باوجود شہریوں سے اس سے کہیں زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے،اگر مقررہ فیس 30 یا 40 روپے ہے تو بعض اوقات شہری پارکنگ کے نام پر 100 روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے بعد اس کا الزام میئر، ڈپٹی میئر، کے ایم سی یا متعلقہ ادارے پر عائد ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پارکنگ کے نظام کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کے ایم سی کے پاس ہر پارکنگ لاٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ موجود ہوگا اور یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ کس مخصوص پارکنگ لاٹ سے کتنی رقم وصول ہوئی اور ہر ماہ اسی طرز پر ایک نئی ڈیجیٹل پارکنگ شروع کی جائے گی تاکہ شہر میں پارکنگ کے نظام کو مرحلہ وار شفاف اور جدید بنایا جاسکے اور جو رقم شہریوں سے وصول کی جاتی ہے وہ باقاعدہ سرکاری خزانے میں جمع ہو،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص کراچی میں کے ایم سی کے نام پر غیر قانونی طور پر پارکنگ فیس وصول کررہا ہے تو شہری اس سے ہوشیار رہیں، کیونکہ سڑکوں پر پارکنگ فیس وصول کرنے کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے ٹاؤنز سے بھی کہا کہ سڑکوں پر پارکنگ فیس وصول کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ناظم آباد، چار مینار، شرف آباد، صدر کی مختلف گلیوں اور مارکیٹس سمیت مختلف علاقوں میں سڑکوں پر پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں پارکنگ کے حوالے سے تمام اداروں کو باہمی تعاون سے کام کرنا ہوگا، ٹاؤنز کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو شفاف نظام کی طرف لے کر جانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسی مقصد کے تحت کے ایم سی نے تمام ٹینڈرز آن لائن کرنے اور ای ٹینڈرنگ کا نظام شروع کیا ہے جبکہ متعلقہ ریکارڈ اور معلومات کے ایم سی کی ویب سائٹ پر بھی فراہم کی جارہی ہیں تاکہ تمام معاملات شفاف رہیں اور ریکارڈ کسی ایک فرد یا افسر تک محدود نہ ہو،انہوں نے کہا کہ پارکنگ صرف مقررہ پارکنگ لاٹس میں ہونی چاہیے اور ڈیجیٹل رسید کے باقاعدہ نظام کے بغیر کسی بھی مقام پر پارکنگ فیس وصول نہیں کی جانی چاہیے،میئر کراچی نے ترقیاتی اخراجات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے مختلف سطحوں پر ہونے والے اخراجات اور منصوبوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے،اگر کسی ادارے یا حکومت کی جانب سے بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس رقم سے شہریوں کو کیا سہولیات حاصل ہوئیں اور شہر کے بنیادی مسائل کس حد تک حل ہوئے،صرف رقم خرچ کرنا کافی نہیں بلکہ وسائل کا درست اور شفاف استعمال اور عوام کو اس کے نتائج فراہم کرنا اصل مقصد ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے فنڈز اور دستیاب وسائل سے شہر میں ترقیاتی کام کررہی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ 15 ستمبر کے بعد ٹاؤنز کی سڑکوں پر بھی کام شروع کیا جائے گا جبکہ مختلف ٹاؤنز کو آپس میں ملانے والی تقریباً 149 رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی بھی کی جائے گی،ان سڑکوں کے حوالے سے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے اور جلد ورک آرڈر جاری کرکے کام شروع کردیا جائے گا، ان منصوبوں کا مقصد شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولت فراہم کرنا ہے،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے صفائی ستھرائی اور کچرے کی منتقلی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے، اسی سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز قائم کیے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی صورتحال اور نکاسی آب کے مسائل کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں پانی کی نکاسی کے اقدامات کیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے منتخب نمائندوں، ٹاؤن چیئرمینز اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔






