میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع وسطی شادمان ٹاؤن میں پارک اور آئی ٹی سینٹر کی بحالی کے اہم منصوبے کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر سٹی کونسل کے اراکین، منتخب نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ میئر کراچی نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو بہتر تفریحی، تعلیمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ شادمان پارک کی بحالی سے علاقے کے شہریوں کو ایک بہتر، صاف ستھرا اور خوبصورت تفریحی مقام فراہم ہوا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں پارکوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور بلدیاتی ادارے شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادمان ٹاؤن میں پارک اور آئی ٹی سینٹر کی بحالی کا منصوبہ ایک کروڑ 45 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 4 ہزار 400 مربع میٹر رقبے پر مشتمل پارک کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے پلے ایریا اور جھولوں کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ پارک کی خوبصورتی اور سبزہ کاری میں اضافے کے لیے ایک ہزار سے زائد مربع میٹر رقبے پر گھاس لگائی گئی ہے، جبکہ سو سے زائد نئے درخت اور پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ پارک کی بحالی کے بعد شادمان ٹاؤن کے رہائشیوں کو ایک بہتر اور خوبصورت تفریحی مقام میسر آیا ہے. میئر کراچی نے بتایا کہ منصوبے کے تحت شادمان ٹاؤن کے آئی ٹی سینٹر کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ 180
مربع میٹر رقبے پر قائم آئی ٹی سینٹر کی عمارت میں 8 کمرے تعمیر کیے گئے ہیں، جہاں دفتر، اسٹور، باورچی خانہ اور بیت الخلاء سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارک اور آئی ٹی سینٹر کے لیے بجلی اور پانی کی فراہمی کا انتظام بھی منصوبے میں شامل ہے جبکہ پارک کے سیوریج کنکشن کو بیرونی سیوریج نیٹ ورک سے منسلک کردیا گیا ہے۔ منصوبے میں شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کے ماحول کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شادمان میں ایک ایکڑ سے زائد رقبہ جو جگہ کبھی گندگی، کچرے اور ویرانے کا منظر پیش کرتی تھی، آج اسے شہریوں کے لیے ایک جدید تفریحی اور تعلیمی مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو اب شادمان آئی ٹی پارک کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور نوجوانوں کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ پارک کے ساتھ قائم آئی ٹی سینٹر کو بھی فعال کردیا گیا ہے اور آج سے اس میں داخلوں کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ داخلوں کے عمل کی تکمیل کے بعد آئندہ 30 روز میں نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف کورسز مفت کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا عزم ہے کہ کراچی کے ہر ضلع اور ہر ٹاؤن میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں جہاں شہریوں کو تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع بھی میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑی کمپنیاں مختلف ممالک سے نوجوانوں کی خدمات آن لائن حاصل کررہی ہیں اور کراچی کے نوجوانوں کو بھی ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نوجوانوں کو ایسی مہارتیں فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں، اپنے والدین اور خاندان کی خدمت کرسکیں اور شہر و ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ شادمان آئی ٹی پارک صرف ایک پارک نہیں بلکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف وعدوں اور اعلانات کا دور نہیں بلکہ عملی کام اور نتائج دکھانے کا وقت ہے۔ شادمان آئی ٹی پارک اس بات کا ثبوت ہے کہ جو وعدہ کیا گیا، اسے پورا کیا گیا اور جو منصوبہ شہریوں کے سامنے رکھا گیا، اسے عملی شکل دی گئی۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور مختلف علاقوں میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ وہ دور گزر گیا جب کہا جاتا تھا کہ کے ایم سی کے پاس اختیارات اور وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین، اختیارات اور وسائل وہی ہیں، تاہم فرق قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے کا ہے۔ موجودہ قیادت عام کراچی کے شہری کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے آج شہر میں ترقیاتی کام نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید کام شروع کیے جارہے ہیں اور تقریباً 149 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔ اگرچہ ان میں سے کئی سڑکیں براہِ راست کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں، تاہم وہاں بھی کراچی کے شہری آباد ہیں اور ان کی مشکلات کم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شہر کی ترقی اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں ماہ ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی کام کے احکامات جاری کردیئے جائیں گے اور اس کے بعد کراچی کے مختلف اضلاع اور ٹاؤنز میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام شروع ہوجائے گا۔ مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سیاسی مخالفین کا اختلاف اور تنقید جمہوری سیاست کا حصہ ہے، وہ اپنے مخالفین سے حمایت کی توقع نہیں رکھتے، تاہم تنقید کے بجائے حقائق اور دستاویزات کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔ میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کی جانب سے میدان میں آنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود میدان میں موجود ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں جاکر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کراچی کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری خوف، دہشت، بدامنی اور لاشوں والا شہر نہیں چاہتے۔ موجودہ کراچی میں امن، ترقی اور شہری سہولیات کی ضرورت ہے اور وہ اسی کراچی کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے مخالفین کی جانب سے کے ایم سی پر مبینہ طور پر 300 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کے ثبوت اور بجٹ کی دستاویزات سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف زبانی دعوے قابل قبول نہیں، بلکہ یہ بتایا جائے کہ یہ رقم کب منظور ہوئی، کون سے منصوبے منظور کیے گئے، ان کی ٹینڈرنگ کب ہوئی اور عملی طور پر ان پر کتنا کام ہوا. میئر کراچی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی جگہ اور کسی بھی فورم پر بحث کے لیے تیار ہیں، تاہم بحث حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ریکارڈ کے مطابق حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میئر وسیم اختر اور موجودہ میئر کے طرزِ قیادت میں واضح فرق ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاست اور طرزِ حکمرانی میں بھی فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اب ترقی کا پہیہ رکنے والا نہیں اور شہر میں جاری ترقیاتی کام مزید تیزی سے آگے بڑھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل سیاسی نعروں، شور شرابے اور الزام تراشی میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بہتر سڑکیں، پارکس، تعلیمی سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا موجودہ قیادت کی ترجیح ہے. میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کا سلسلہ جاری رہے گا اور 15 ستمبر کے بعد مختلف علاقوں میں مزید سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبے عملی مرحلے میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار اور رفتار پر شہریوں اور منتخب نمائندوں کی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے گی۔






