میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 78ویں برسی کے موقع پر مزار قائد پر حاضری

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 78ویں برسی کے موقع پر مزار قائد پر حاضری اور فاتحہ خوانی کی اور بانی پاکستان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، اس موقع پر انہوں نے ملک و قوم کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے دعا بھی کی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مزار قائد پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مملکت کے حصول کی راہ ہموار کی اور مسلمانوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا عزم و حوصلہ دیا، ان کی بے مثال قیادت اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔میئر کراچی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پوری زندگی اصول، آئین، قانون، جمہوریت اور اتحاد کا عملی نمونہ تھی، انہوں نے مسلمانوں کو ایک قوم کی حیثیت سے متحد کیا اور ایک واضح سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان کے قیام کی منزل حاصل کی۔ قائداعظم کا پیغام ”اتحاد، تنظیم اور یقین محکم“ آج بھی پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے اور موجودہ حالات میں ہمیں ان کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں غیرقانونی طور پر مسلح سیکورٹی گارڈز کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ظاہر کرنے کا سلسلہ کسی صورت درست نہیں، حکومت کی جانب سے اس معاملے کے خلاف کارروائی ایک اچھا اقدام ہے اور پولیس کو چاہیے کہ اس کارروائی کو مزید آگے بڑھائے تاکہ شہر میں پرائیویٹ ملیشیا کے تصور کا خاتمہ کیا جاسکے، انہوں نے کہا کہ مختلف تھانوں کے اچانک دوروں کے دوران ایسے مسلح افراد کی موجودگی کا انکشاف ہوا جو پولیس، ایف سی یا ایس ایس یو طرز کی وردیاں اور فوجی انداز کی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے، ان افراد کے پاس بڑے ہتھیار بھی موجود تھے، پولیس کو طلب کرکے ہتھیار ضبط اور بغیر شناختی کارڈ کے افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ سیکورٹی کمپنی کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور انتظامی تحقیقات کی جائیں گی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقالی کیسے کی گئی،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کسی خصوصی پروٹوکول یا سیکورٹی کے بغیر شہر میں مختلف مقامات پر گئے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ شہریوں کو کن مسائل کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشنز کے دوروں کے دوران شہریوں کی شکایات سنیں اور جہاں شکایات کا ازالہ ضروری تھا وہاں فوری طور پر اقدامات کیے گئے، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ، گورنر، وزراء اور دیگر اہم شخصیات بھی عوامی مقامات پر موجود ہوتی ہیں، اس کے باوجود ہر شخص کے گرد مسلح افراد کا ہجوم نظر نہیں آتا، اس لیے غیرضروری مسلح سیکورٹی کے کلچر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ شہری کی حیثیت سے وہ حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہیں اور انہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ کھلے عام ہتھیار لے کر گھومتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کو مزید آگے بڑھائے تاکہ ہر شخص کے ساتھ مسلح گارڈز کی موجودگی اور پرائیویٹ ملیشیا کے تصور کا خاتمہ ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی کو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردی یا انداز اختیار کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔میئر کراچی نے واٹر بورڈ کی لائنوں میں لیکیج اور سڑکوں پر کئی کئی ماہ تک پانی بہنے کی شکایات کے حوالے سے کہا کہ واٹر بورڈ کی شکایات کے لیے 1334 نمبر موجود ہے، شہری کسی بھی ایسے مسئلے کی اطلاع اس نمبر پر درج کراسکتے ہیں، شکایات کی خود بھی نگرانی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کے ضیاع سے نہ صرف قیمتی پانی ضائع ہوتا ہے بلکہ سڑکوں کا انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوتا ہے، اس لیے لیکیج کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں کیونکہ بعض اوقات غیرقانونی کنکشن حاصل کرنے کے لیے پانی کی لائنوں میں خود سوراخ کیے جاتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کے دوران سڑکوں کو بھی مختلف مقامات سے توڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور شہری دونوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچایا جاسکے اور پانی کے ضیاع کو روکا جاسکے۔نئے بلدیاتی قانون کے حوالے سے سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ وہ ساڑھے تین سال سے عوام کے درمیان کھڑے ہوکر کام کررہے ہیں اور آئندہ بھی جتنا وقت ملا عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں نگراں حکومت کا موجودہ پاکستانی تصور نہیں، جبکہ پاکستان میں یہ ایک روایت بن چکی ہے۔ بلدیاتی نظام میں ان کے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کو اس وقت تک کام کرنے دیا جائے جب تک ان کا جانشین منتخب ہوکر ذمہ داریاں سنبھال نہ لے۔میئر کراچی نے کہا کہ اگر منتخب نمائندوں کو جانشین کے آنے تک ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں تو اس میں عوامی احتساب کا عنصر موجود رہتا ہے، جو کسی بیوروکریٹ کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے سے بہتر ہے، کیونکہ منتخب سیاسی نمائندہ عوام کے درمیان رہتا ہے اور اسے اپنے حلقے کے مسائل اور عوام کو جواب دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ذمہ داری جلد از جلد انتخابات کا انعقاد ہے اور جتنی جلد انتخابات ہوں گے اتنی ہی جلد بلدیاتی معاملات بھی آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام اپنی جگہ موجود ہے اور کراچی و حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں منتخب میئرز اور چیئرمین کام کررہے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں مختلف نوعیت کے انتظامی نظام موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری تیسرے درجے کی حکومت کو بااختیار بنانے کے خواہاں ہیں اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ ترمیم کسی ایک شخص، جماعت یا میئر کے لیے نہیں بلکہ تمام منتخب نمائندوں کے لیے ہوگی، خواہ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، ٹی ایل پی یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں اور مقررہ مدت کے حوالے سے سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ بعض منصوبوں کی مقررہ ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے کے باوجود سڑکوں کی تعمیر مکمل کی گئی ہے اور ترقیاتی کام جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور جہاں منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے وہاں کام مکمل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔فائر سیفٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فائر ڈپارٹمنٹ کا بنیادی کام ہی آگ کے خطرات سے متعلق معاملات کی جانچ اور شہریوں کی حفاظت ہے، اس لیے پٹرول پمپ، گیس اسٹیشن یا ایسے مقامات جہاں آتش گیر مواد موجود ہو، وہاں فائر سیفٹی کے حوالے سے تحقیقات اور معائنہ فائر ڈیپارٹمنٹ ہی کا اختیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پی آئی ایم ایس، گل پلازہ اور ای پی زیڈ اے سمیت مختلف واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ آگ کا خطرہ ایک حقیقت ہے اور ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ اگر کسی پٹرول پمپ یا گیس اسٹیشن پر فائر سیفٹی سے متعلق تحقیقات درکار ہوں تو فائر ڈپارٹمنٹ کو اس کا اختیار استعمال کرنے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کراچی شہر ہے اور یہاں دوسرے اداروں کے قوانین مسلط نہیں کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو میئر، کے ایم سی اور حکومت سے جواب طلب کیا جاتا ہے، لیکن جب متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں تو ان کے اختیار پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی کے قوانین اور ان پر عملدرآمد کو سنجیدگی سے یقینی بنانا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button