وزیر اعلٰی صاف پانی پراجیکٹ، 30 نومبر تک راولپنڈی ڈویژن میں 706 فلٹریشن پلانٹس مکمل و فعال کرنے کا ہدف

صوبائی وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین کی زیر صدارت کمشنر آفس راولپنڈی میں صاف پانی کی فراہمی، واٹر فلٹریشن پلانٹس اور نالہ لئی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی راجہ حنیف ایڈووکیٹ، ملک افتخار، عمیر صداقت، کمشنر راولپنڈی سلمان غنی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ندیم ناصر، مینجنگ ڈائریکٹر واسا، صاف پانی اتھارٹی و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈویژن بھر میں شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی، موجودہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فعالیت اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو وزیراعلیٰ پنجاب صاف پانی پروگرام فیز ون پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں 30 نومبر 2026 تک 706 فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع راولپنڈی میں 175, جہلم میں 142, اٹک میں 207, چکوال میں 73, مری میں 28 اور تلہ گنگ میں 75 پلانٹس لگائے جائیں گے۔ وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین نے ہدایت کی کہ ان نئے لگنے والے والے پلانٹس کے علاوہ پہلے سے موجود پلانٹس کو فعال رکھا جائے اور تمام پلانٹس کی مشینری، فلٹرز، بجلی، پانی کے معیار اور دیگر ضروری سہولیات کا مکمل جائزہ لے کر ضروری اقدامات کیے جائیں۔صوبائی وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری کام مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں اور جہاں کام کی رفتار سست ہے وہاں فوری طور پر رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کے ساتھ ساتھ ان کی مستقل بنیادوں پر دیکھ بھال اور فعالیت کا مؤثر نظام بھی یقینی بنایا جائے۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کا جامع ڈیٹا مرتب کیا جائے، غیر فعال پلانٹس کی وجوہات کی نشاندہی کرکے بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور محکمے باہمی رابطے کے ذریعے پلانٹس کی مانیٹرنگ کریں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر میکنزم وضع کیا جائے۔ اسکے علاوہ پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ کو یقینی بنایا جائے اور ٹیسٹ رپورٹس کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فلٹریشن پلانٹس کے فلٹرز اور دیگر آلات کی بروقت تبدیلی اور مرمت کے لیے باقاعدہ مینٹیننس شیڈول تیار کیا جائے تاکہ پلانٹس مسلسل فعال رہیں۔

جواب دیں

Back to top button