*پنجاب میں سمارٹ واٹر میٹرنگ کے فروغ کا فیصلہ*

پنجاب کے شہری علاقوں میں زیرِ زمین آبی ذخائر کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح کے پیشِ نظر پانی کے بہتر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے سمارٹ واٹر میٹرنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل نے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں واٹر میٹرنگ کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔سیکرٹری ہاؤسنگ کی زیرِ صدارت اجلاس میں مختلف واٹر میٹرز کے ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ واسا حکام نے واٹر میٹرنگ اور گراؤنڈ واٹر ریچارج کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ آٹومیٹک واٹر میٹرنگ کے ذریعے خودکار ریڈنگ کا نظام متعارف کروایا جائے گا، جس میں عملے کے کسی فرد کی ریڈنگ میں مداخلت نہیں ہو گی۔ میٹرنگ کا نظام مکمل طور پر شفاف اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ واٹر میٹرنگ سے شہریوں میں پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور بچت کا شعور مزید فروغ پائے گا۔ اجلاس کے دوران دیگر ممالک میں پانی کی بچت سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ خطے کے دیگر ممالک سے نسبتاً کم قیمت پر واٹر میٹرز کی فراہمی کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔واساحکام کے مطابق صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 9 ہزار 288 واٹر میٹرز کی ضرورت ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2029ء تک لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 1 لاکھ 50 ہزار 900 واٹر میٹرز نصب کیے جائیں گے۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ واسا حکام نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار واٹر ریچارج ویلز کی تنصیب کا عمل جاری ہے،

جبکہ صوبہ بھر میں 70 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز پر کام جاری ہے اور ان میں سے 20 مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔بریفنگ کے مطابق لاہور میں 40، ملتان میں 25 اور فیصل آباد میں 5 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبے جاری ہیں۔ ریچارج ویلز کے ذریعے سالانہ 11.4 ملین گیلن پانی محفوظ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ واٹر میٹرنگ اور رین واٹر ہارویسٹنگ کو بھی جامع منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ بارشی پانی کو محفوظ کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کیا جا سکے۔واساحکام کے مطابق 1970ء سے 2020ء تک لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تقریباً 3 فٹ تک گرتی رہی، تاہم صرف ٹیوب ویلز کے چلنے کے اوقات کار میں تبدیلی کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ کمی کی شرح تقریباً 1 فٹ تک آ گئی ہے۔سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے شہریوں کو پانی کی بچت اور آبی ذخائر کے تحفظ سے متعلق آگاہی دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر نتیجہ خیز اور پائیدار منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں یکساں ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں اور پانی کے موجودہ ذخائر کے تحفظ کے ساتھ ساتھ متبادل آبی ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button