*صوبہ بھر میں واسا عملے کی بنیادی ریسکیو اور فائر سیفٹی تربیت*

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر واسا عملے کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت مزید مؤثر بنانے کے لیے ایمرجنسی سروسز کے اشتراک سے صوبہ بھر میں بنیادی ریسکیو اور فائر سیفٹی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔تربیتی ورکشاپس میں واسا عملے کو آگ لگنے کی صورت میں محفوظ اور بروقت انخلاء، آگ بجھانے والے آلات کے استعمال اور بنیادی طبی امداد سمیت ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی عملی تربیت دی جا رہی ہے۔

سیکرٹری ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف فائر سیفٹی انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ متعلقہ عملے کی عملی تربیت بھی یقینی بنائی جائے، تاکہ بحران کی صورت میں ابتدائی ردعمل مؤثر، محفوظ اور بروقت ہو اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری ممکن بنائی جا سکے۔حالیہ بڑے آتشزدگی کے واقعات، بالخصوص گل پلازہ اور پی آئی ایم ایس کے واقعات، نے مؤثر فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی تیاری اور تربیت یافتہ عملے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے فائر ایمرجنسیز کے مؤثر رسپانس کے لیے پہلے ہی اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ سیف پنجاب مشن کے تحت صوبہ بھر میں اہم مارکیٹوں، کمرشل مراکز اور مصروف بازاروں میں 1,161 فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں واسا پنجاب اور ریسکیو 1122 شامل ہیں۔ فائر ہائیڈرنٹس کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عملی مشقوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کے ساتھ اب واسا عملے کی بنیادی ریسکیو اور فائر سیفٹی تربیت انفراسٹرکچر اور انسانی استعدادِ کار، دونوں کو مربوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے واسا فیلڈ اسٹاف کے تحفظ کے لیے پہلے ہی جامع سیفٹی ایس او پیز نافذ کیے گئے ہیں، جن میں حفاظتی کٹس، گیس ڈیٹیکٹرز، حفاظتی لباس، ہیلمٹ اور دیگر ضروری حفاظتی سامان کا استعمال، جبکہ ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطے کی ہدایات شامل ہیں۔موجودہ تربیتی ورکشاپس کا مقصد واسا عملے کو ایسے بنیادی عملی ہنر فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ابتدائی ردعمل مؤثر انداز میں دیا جا سکے اور شہریوں اور عملے کی جان و مال کے تحفظ کے لیے متعلقہ ریسکیو اداروں کے ساتھ بروقت تعاون یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button