سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیر صدارت اجلاس،بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ء میں ضروری ترامیم دیگر امور کا جائزہ

سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کوئٹہ کی دو اضلاع میں تقسیم کے بعد بلدیاتی نظام میں ضروری قانونی و انتظامی ترامیم، مقامی کونسلوں کے قیام، ٹی ایم سیز اور شہری یونین کونسلوں کی ازسرِنو حد بندی سمیت دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر بڑیچ، سیکرٹری لوکل کونسلز بلوچستان عبدالوحید بادینی، فوکل پرسن محکمہ بلدیات و دیہی ترقی طحہٰ جنید، الیکشن کمیشن، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بلدیاتی نظام کو نئے انتظامی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ء میں ضروری قانون سازی اور ترامیم، بالخصوص نئے نوٹیفائیڈ اضلاع میں مقامی کونسلوں کے قیام سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔اجلاس میں کوئٹہ کی چار ٹی ایم سیز (TMCs) اور ان کے تحت آنے والی شہری یونین کونسلوں (Urban UCs) کی موجودہ حدود کا بھی جائزہ لیا گیا اور ضلع کی نئی انتظامی تقسیم کے تناظر میں ان کی ازسرِنو تعیینِ حدود اور ضرورت کے مطابق حد بندی میں ترمیم کے امور پر غور کیا گیا۔شرکاء نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ ضلع کوئٹہ کی تقسیم کے بعد مردم شماری سے متعلق چارجز، سرکلز (Circles) اور سی بی سیز (CBCs) کی موجودہ تقسیم میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں، جبکہ ضرورت پڑنے کی صورت میں متعلقہ ٹی ایم سیز اور شہری یونین کونسلوں میں ان کی دوبارہ تقسیم اور انتظامی ترتیب کے حوالے سے تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کوئٹہ کی انتظامی تقسیم کے بعد بلدیاتی اداروں کے نظام کو نئی انتظامی ضروریات کے مطابق منظم کرنا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام قانونی، انتظامی اور حد بندی سے متعلق امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق بلدیاتی نظام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نچلی سطح پر مؤثر انتظامی ڈھانچے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے نئی اضلاع کی تشکیل کے بعد بلدیاتی اداروں کی حدود، کونسلوں کی تشکیل اور دیگر متعلقہ معاملات کو واضح قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت حتمی شکل دینا ضروری ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قانونی ترامیم، حد بندی، مردم شماری سے متعلق امور اور مقامی کونسلوں کے قیام کے معاملات میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور مشاورت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ آئندہ بلدیاتی انتظامات میں کسی قسم کی انتظامی یا قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔اجلاس کے اختتام پر دیگر متعلقہ امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ضلع کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جولائی 2026ء میں جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بلدیاتی نظام کو نئی انتظامی تقسیم کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے امور اہمیت اختیار کر گئے

جواب دیں

Back to top button