لوکل گورنمنٹ گرینڈ الائنس خیبر پختونخوا اور ٹی ایم اے ملازمین کے صدر مرجان نے سیکرٹری بلدیات کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف اپنے ہی ماتحت افسران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے "گڈ گورننس” کے ویژن کو روندتے ہوئے سیکرٹری بلدیات نے ملازمین کے حقوق کا مطالبہ کرنے پر اجلاس سے راہِ فرار اختیار کی۔صدر ٹی ایم اے مرجان نے گرینڈ الائنس کے دیگر رہنماؤں (شوکت کیانی، انور کمال، سلمان ہوتی، سوار خان، رازق خان، وقار شاہ، محبوب خان، شاد خان، جمیل خان، اختر منیر اور زاہداللہ) کے ہمراہ مشترکہ بیان میں انکشاف کیا کہ اجلاس کے دوران جب ہر ماہ کی یکم تاریخ کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا، تو سیکرٹری بلدیات نے یہ بے بنیاد عذر پیش کیا کہ تنخواہوں کی گرانٹ سے ٹی ایم اے افسران ترقیاتی کام کرواتے ہیں۔مرجان نے دوٹوک الفاظ میں کہا:”جو سیکرٹری اپنے ماتحت افسران کو قابو کرنے اور فنڈز کی غیر قانونی منتقلی روکنے سے قاصر ہو، اسے اخلاقی طور پر فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایم ایز کو ملنے والی گرانٹ مبینہ کمیشن اور رشوت کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہے، جس کے باعث صوبے بھر کے ملازمین اور ریٹائرڈ پنشنرز فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ گرینڈ الائنس نے انتباہ کیا کہ اگر یکم تاریخ کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی، تو صوبہ بھر میں دفاتر کی تالہ بندی اور دھرنوں کا سخت لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ بلدیات کے حکام پر ہوگی۔

جاری کردہ:
مرجان (صدر، ٹی ایم اے / لوکل گورنمنٹ گرینڈ الائنس خیبر پختونخوا)





