وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت

کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور تمام اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑنے والے ہمارے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، 2004 سے آج تک 22 سال سے خیبرپختونخوا مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا، آج افغانستان میں موجود حکومت کے ساتھ چائے پر ملاقاتیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود تعلقات بہتر نہیں ہوئے۔افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے، گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا، 22 سال سے ایک پالیسی پر عمل ہو رہا ہے جو نتائج نہیں دے رہی، اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں، وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے پر مرکوز ہے، وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں۔پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے، پاکستان کو فتنہ الہندستان سے خطرہ نہیں۔جب سے ہماری حکومت آئی ہے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا ہے، پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، ہمارے اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے،وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت کا اعلان کرتا ہوں، کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تمام ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کیے جائیں گے،دھماکے میں متاثر ہونے والی مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو کرائی جائے گی، کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا پہلے ہی اعلان کر چکا ہوں، اسے کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا، اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی، داؤد آفریدی اور صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی اس موقع پر موجود تھے

جواب دیں

Back to top button