وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس ہوئی۔وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی سرکاری رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے، عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹ نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز نے جب بھی ان کا بلڈ پریشر چیک کیا، نارمل رہا، لیکن آج کی سرکاری رپورٹ میں ہائی بتایا گیا ہے، عمران خان کی صحت کا مسئلہ ایک حقیقی اور سنجیدہ مسئلہ ہے، وہ جعلی طریقے سے اپنے پلیٹ لیٹس کم نہیں کروا رہے۔دو دسمبر سے آج تک عمران خان سے نہ ان کی فیملی، نہ وکلاء اور نہ ذاتی ڈاکٹرز کی ملاقات ہوئی ہے، سرکاری رپورٹ سامنے آنے کے باوجود ہمیں حقیقت کا علم نہیں کہ جیل کے اندر عمران خان کے ساتھ کیا ہوا ہے،آج ان کی صحت کی صورتحال کے ذمہ دار موجودہ حکمران اور اغواء کار ہیں، جب سے عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ سامنے آیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کا علاج ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں، اہلِ خانہ کی موجودگی میں بہترین اسپتال میں کرایا جائے،عمران خان سے وکلاء اور اہلِ خانہ کی ملاقاتیں بحال کی جائیں، ہمارا مطالبہ نہ غیر آئینی ہے نہ غیر قانونی، عدلیہ بھی عمران خان کی صحت کے معاملے پر خاموش ہے اور اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا،ملک کی سب سے بڑی جماعت کا مقبول ترین لیڈر جیل میں ہے، اگر عدلیہ اسے انصاف فراہم نہیں کر سکتی تو عام آدمی کو کیا انصاف دے گی؟25 کروڑ عوام کی آخری امید عدلیہ ہے، ہم عدلیہ سے انصاف کی التجا کر رہے ہیں، کسی غیر معمولی ریلیف کا مطالبہ نہیں۔کل عمران خان کے کیس کی سماعت تین رکنی بینچ کرے گا، کل عمران خان سے وکلاء اور فیملی کی ملاقات کا دن بھی ہے، یہ ملاقاتیں لازمی ہونی چاہئیں،عدلیہ سے گزارش ہے کہ عمران خان کے علاج اور ان سے ملاقات کے حوالے سے ہمارا جائز مطالبہ پورا کیا جائے، عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز، اہلِ خانہ، وکلاء اور پارٹی قیادت باہمی مشاورت کے بعد آئندہ کا واضح لائحہ عمل طے کریں گے،اگر عدلیہ انصاف نہیں کرے گی تو عوام انصاف اپنے ہاتھ میں لے گی،عوام کے انصاف کے آگے نہ پارٹی مشران کا بس چلتا ہے، نہ اداروں کا اور نہ عدلیہ کا،قوم کو عمران خان کی صحت کی اصل صورتحال سے صرف ان کی فیملی ہی آگاہ کر سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button