وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا پانچ اگست پشاور جلسے کے حوالے سے اہم وڈیو پیغام

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 5 اگست شام 6 بجے پشاور ٹول پلازہ پر فیصلہ کن جلسہ ہوگا، خیبرپختونخوا خصوصاً نوجوان بھرپور شرکت کریں، ظلم، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف عوام کو خود اٹھ کر آواز بلند کرنا ہوگی، 5 اگست کا جلسہ سیمی فائنل ہوگا، جسمیں اہم اعلانات کیے جائیں گے۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت تشویشناک ہے، ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کا آئینی و قانونی مطالبہ پورا نہیں کیا جا رہا، عمران خان کو غیر قانونی طور پر آئیسولیشن میں رکھا گیا، اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں، ذاتی ڈاکٹرز اور بیٹوں سے ملاقات کی اجازت نہیں، عمران خان کی صحت اور حالت سے لاعلم رکھنا غیر قانونی ہے، ان کے ساتھ اغوا شدہ شخص جیسا سلوک ہو رہا ہے۔عمران خان کو انصاف نہیں مل رہا، مقدمات کی سماعت اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اسپیکر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا مگر عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی، میں عمران خان کا نمائندہ ہوں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، خیبرپختونخوا میں ان کا وژن نافذ کرنا عوام کا مینڈیٹ ہے، تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاج ہی واحد راستہ بچا ہے، دو سال سے احتجاج نہیں کیا پھر بھی ملاقاتوں پر پابندی برقرار ہے،عمران خان کو جھکانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، وہ جیل میں رہ کر بھی آزاد جبکہ حکمران اقتدار میں رہ کر بھی غلام ہیں، حکمران عوام کے بجائے اپنے لانے والوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، بلوچستان اور کشمیر کے حالات پر بھی خاموش ہیں،بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، تمام مسائل آئین اور قانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں، ملکی معیشت تباہی کی طرف جا رہی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت کی ترجیح صرف عمران خان کو پابندیوں میں رکھنا ہے،چند افراد اپنی انا کی خاطر پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں، پاکستان کا نوجوان یہ ہونے نہیں دے گا، پاکستان کو عظیم ملک بنانے اور قوم کو متحد کرنے کی صلاحیت صرف عمران خان میں ہے، وہ پاکستان کی وحدت اور سلامتی کی ضمانت ہیں،میرے خلاف 9 مئی کے مقدمات دوبارہ کھول دیے گئے، بریت کے بعد بھی دوبارہ تفتیش شروع کر دی گئی، 28 اور 29 جولائی کو مزید مقدمات مقرر کیے گئے، مگر میں نہ ڈرتا ہوں، نہ جھک سکتا ہوں، نہ خریدا جا سکتا ہوں، مرتے دم تک عمران خان کے نظریے پر قائم رہوں گا، کوئی طاقت مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتی، دوسرے ضلع میں تقریر پر میرے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کی انتخابی مہم پر الیکشن کمیشن خاموش ہے، پی ٹی آئی، اس کی قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، تمام ادارے مل کر یہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں،5 اگست کو پشاور پہنچیں، پاکستان کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا وقت آ گیا ہے

جواب دیں

Back to top button