*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے روٹری انٹرنیشنل کے صدر کی ملاقات*

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں روٹری انٹرنیشنل کے صدر مسٹر لیری اے لونسفورڈ سے ملاقات کے دوران صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ پولیو کا خاتمہ سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے کیسز میں مسلسل کمی اور پانچ ماہ سے زائد عرصے سے انسانی پولیو کیس سامنے نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں انسداد پولیو مہم درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سندھ بھر میں معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کے نظام کو مضبوط بنانے اور ویکسین سے روکی جانے والی بیماریوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، قائم مقام سیکریٹری صحت حفیظ عباسی، شہریار گل اور ای او سی سندھ کے کوآرڈینیٹر نے شرکت کی۔ روٹری انٹرنیشنل کی جانب سے نیشنل چیئر اور ٹرسٹی عزیز میمن، روٹری ڈسٹرکٹ گورنر شہزاد صابر، ڈسٹرکٹ گورنر الیکٹ فہد سکندر، ڈی جی این جبار شیخ اور پی ڈی جی سلیم راؤ بھی اجلاس میں شریک تھے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے روٹری انٹرنیشنل کے صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے روٹری انٹرنیشنل کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے تنظیم کی طویل مدتی شراکت داری کو سراہا۔وزیر اعلیٰ نے وفد کو سندھ پولیو پروگرام کے تحت ہونے والی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور وبائی امراض سے متعلق حوصلہ افزا اشاریوں کو اجاگر کیا، جو پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کی کوششوں میں نمایاں کامیابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی کے کیسز میں حوصلہ افزا کمی اور پانچ ماہ سے زائد عرصے سے انسانی پولیو کیس سامنے نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ ہماری اجتماعی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت وائرس کے مکمل خاتمے تک اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم ہم مطمئن ہوکر نہیں بیٹھے۔ ہماری توجہ ہر بچے تک پہنچنے پر ہے، بالخصوص زیادہ خطرے سے دوچار اور نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کے بچوں تک۔ ہم نگرانی، معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، کمیونٹی کی شمولیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بناتے رہیں گے تاکہ کوئی بچہ محروم نہ رہ جائے۔وزیر اعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ سندھ نے جدید اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اپنے انسداد پولیو پروگرام کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے، جن میں کراچی ایکشن پلان، زیادہ عمر کے بچوں کے لیے ویکسینیشن مہمات، یونین کونسل امیونائزیشن افسران کی تعیناتی، نگرانی کے نظام میں بہتری اور توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور انسداد پولیو آپریشنز کے درمیان بہتر انضمام شامل ہیں۔حکام نے اہم کامیابیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2026 میں سندھ کے 29 ماحولیاتی نگرانی کے مقامات میں سے 8 پر پولیو وائرس کے ٹیسٹ منفی آئے، جو جون 2023 کے بعد منفی نتائج کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سندھ فروری 2026 سے تصدیق شدہ انسانی پولیو کیس سے بھی پاک ہے، جب آخری کیس ضلع سجاول سے رپورٹ ہوا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کراچی میں زیادہ عمر کے بچوں کے لیے ایف آئی پی وی پلس او پی وی بوسٹر مہم کی کامیابی کو اجاگر کیا، جس کے تحت 89 زیادہ خطرے سے دوچار یونین کونسلز میں تقریباً 26 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر حساس علاقوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی خطرے کی بنیاد پر مداخلتی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔مسٹر لیری اے لونسفورڈ نے پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت پر سندھ حکومت، فرنٹ لائن ورکرز اور شراکت دار اداروں کو سراہا۔ روٹری انٹرنیشنل کے صدر نے کہا، "سندھ سے رپورٹ ہونے والی پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور مضبوط سیاسی عزم، مؤثر پروگرام مینجمنٹ اور ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز کی لگن کی عکاسی کرتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ روٹری انٹرنیشنل پاکستان کو پولیو سے پاک مستقبل کی جانب لے جانے کے سفر میں بھرپور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ سندھ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ جب حکومتیں، کمیونٹیز اور ترقیاتی شراکت دار مشترکہ مقصد کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو کیا کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔مسٹر لونسفورڈ نے بالخصوص کمیونٹی کی شمولیت، ویکسین کی قبولیت، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ان بچوں تک رسائی کے لیے جدید طریقہ کار اختیار کرنے پر سندھ کی کوششوں کو سراہا جو ویکسینیشن سے محروم رہ گئے یا نقل مکانی کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت نے پولیو کے خاتمے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ نے یونین کونسل امیونائزیشن افسران کی تعیناتی، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی، پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولیات میں توسیع، فرنٹ لائن ورکرز کی معاونت اور معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو ماں اور بچے کی صحت کے وسیع تر پروگراموں کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے صوبائی وسائل مختص کیے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ محض صحت کا ایک ہدف نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک عزم ہے۔ حکومت سندھ پولیو سے پاک سندھ اور پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے درکار ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کرتی رہے گی۔اجلاس کا اختتام دونوں جانب سے قریبی تعاون جاری رکھنے اور صوبے اور ملک بھر میں پولیو وائرس کی منتقلی کو مستقل طور پر روکنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔یہ مسودہ حکومت کے باضابطہ نیوز ریلیز کے انداز میں تیار کیا گیا ہے اور اس میں پروگرام کی اہم کامیابیاں، وزیر اعلیٰ کے بیانات، روٹری انٹرنیشنل کے صدر کے بیانات اور سندھ حکومت کے عزم سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔

جواب دیں

Back to top button