خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی، شراکت داری کے فروغ اور خیبرپختونخوا میں فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی قلت (Stunting)، زرعی ترقی اور ضم اضلاع میں بے گھر خاندانوں (IDPs) کی معاونت سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں خیبرپختونخوا حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ترجیحی شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے کہا کہ صوبے میں لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے چشمہ رائٹ لفٹ بینک کینال منصوبہ ناگزیر ہے۔ صوبائی حکومت ہر سال اس منصوبے کے لیے فنڈز مختص کرتی ہے، تاہم وفاقی حکومت اپنے حصے کی رقم فراہم نہیں کر رہی۔ خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آبی نہروں، ٹیوب ویلز اور دیگر زرعی منصوبوں پر خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں شجرکاری اور جنگلات کے فروغ پر بھرپور سرمایہ کاری کی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے 45 فیصد سے زائد جنگلات خیبرپختونخوا میں موجود ہیں، جبکہ صوبے کے 26 فیصد رقبے پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈز اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے معیشت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بونیر، شانگلہ، سوات اور باجوڑ کے سیلاب متاثرین کو 15 ارب روپے سے زائد کا معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، تاہم گرین کلائمیٹ اقدامات، قدرتی وسائل کے تحفظ اور جدید ارلی وارننگ سسٹمز میں مزید سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی سے ان علاقوں کا انفراسٹرکچر اور مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کراس بارڈر تجارت پر انحصار کرنے والے اضلاع بارڈر بندش کے باعث شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔صرف تیراہ سے 24 ہزار خاندان بے گھر ہوئے، جہاں روزگار، صحت اور تعلیم تک رسائی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے عارضی طور پر بے گھر افراد (TDPs) کے لیے سالانہ 17 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر یہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت اپنی محدود مالی استعداد کے باوجود آئی ڈی پیز کی بحالی، امداد اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا اور صوبے میں فوڈ سیکیورٹی، غذائیت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، زرعی شعبے کی بہتری اور متاثرہ آبادی کی معاونت کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔






