وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا، جہاں انہیں بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ، اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہدفی کارروائیوں اور سرحدی سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات کے باعث سنگین جرائم، دہشت گردی سے متعلق واقعات اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اجلاس میں صوبے بھر کی سیکیورٹی صورتحال، جرائم کے رجحانات، انسداد دہشت گردی کارروائیوں، انسداد منشیات مہم، کچے کے علاقوں میں آپریشنز اور سیف سٹی پراجیکٹ اور سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم (ایس فور) سمیت جدید نگرانی کے نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی آزاد خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ سندھ پولیس نے انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ، بین الصوبائی سرحدوں پر سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے، حساس تنصیبات، غیر ملکی سفارتی مشنز، چینی شہریوں، مذہبی مقامات، عوامی مقامات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے ذریعے صوبے بھر میں مضبوط سیکیورٹی ماحول برقرار رکھا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ پولیس، رینجرز، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
*سنگین جرائم میں کمی*
انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ جنوری تا جون 2026 کے اعدادوشمار کا 2025 کی اسی مدت سے موازنہ کیا جائے تو قتل کے واقعات میں 17.3 فیصد، قتل کے ساتھ ڈکیتی میں 19.4 فیصد، زخمی کرنے والی ڈکیتی میں 25.4 فیصد، ڈکیتی اور رہزنی میں 18.9 فیصد، کار چھیننے کے واقعات میں 23.9 فیصد، موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں 31.1 فیصد اور موٹر سائیکل چوری میں 22.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔انسپکٹر جنرل پولیس نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اگرچہ جرائم کی بیشتر اقسام میں کمی آئی ہے، تاہم موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
*کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی*
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کراچی میں مجموعی اسٹریٹ کرائم میں 11.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈکیتی کے دوران ہلاکتوں میں 38.3 فیصد، زخمی ہونے کے واقعات میں 39.1 فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 24.3 فیصد اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں 27.8 فیصد کمی آئی۔
*پولیس کارروائیاں تیز*
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی کے مطابق سندھ پولیس نے 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 2 ہزار 184 پولیس مقابلے کیے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد ایک ہزار 574 تھی۔ اس دوران پولیس نے ایک ہزار 87 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا، 187 خطرناک ملزمان کو ہلاک کیا اور مختلف کارروائیوں میں ہزاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ، خصوصاً پستول، ریوالور اور دیگر آتشیں اسلحہ کی بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی۔
*انسداد منشیات مہم میں توسیع*
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ رپورٹنگ مدت کے دوران پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف 7 ہزار 27 چھاپے مارے، جن کے نتیجے میں 7 ہزار 468 مقدمات درج کیے گئے اور 9 ہزار 96 ملزمان گرفتار کیے گئے۔کارروائیوں کے دوران ہیروئن، چرس، آئس اور شراب کی بھاری مقدار بھی برآمد کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے منشیات فروشوں، آن لائن منشیات فروخت کرنے والوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف سرگرم منشیات فروشوں کے خلاف بھی خصوصی کارروائیاں کی گئیں۔
*بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں*
اجلاس میں کراچی میں سرگرم بھتہ خور گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان نے بتایا کہ درج شدہ بھتہ خوری کے مقدمات میں 81 فیصد کیسز ٹریس کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی بدنام زمانہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا، درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ بیرون ملک مفرور چار ملزمان کے خلاف ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے۔
*دہشت گردی کے واقعات میں 75 فیصد کمی*
انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2026 کے دوران دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے 777 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کیں، جن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچ شدت پسند گروہوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 355 دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، دیسی ساختہ بم، ڈیٹونیٹر، ہینڈ گرینیڈ اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا۔
*کچے کے علاقوں میں آپریشن جاری*
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ دریائی کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن نجاتِ مہران کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری 2026 سے اب تک پولیس نے 141 مقابلے کیے، جن میں 275 ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر ہلاک ہوئے، سیکڑوں ملزمان گرفتار کیے گئے، متعدد اشتہاری ملزمان نے ہتھیار ڈالے جبکہ اغوا شدگان کو بازیاب کرانے اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔پولیس کے مطابق جاری مہم کے دوران کچے کے علاقوں میں سرگرم منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مجموعی طور پر 550 ڈاکو یا تو گرفتار کیے جا چکے ہیں یا انہوں نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
*سیف سٹی اور اسمارٹ سرویلنس سسٹم*
انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو نے وزیراعلیٰ کو سیف سٹی اور نگرانی کے نظام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت کراچی بھر میں ایک ہزار 325 نگرانی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جو اصل ہدف سے بھی زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظام میں چہرہ شناخت کرنے والے کیمرے، خودکار نمبر پلیٹ شناختی (اے این پی آر) کیمرے اور پی ٹی زیڈ کیمرے شامل ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ سیف سٹی نظام کی مدد سے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں اور فوجداری تحقیقات میں اہم شواہد حاصل ہوئے۔ اسی طرح ایک ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیے گئے سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم (ایس فور) کے تحت صوبے بھر کے 40 ٹول پلازوں پر 381 کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس نظام کی مدد سے 496 جرائم پیشہ افراد گرفتار کیے گئے جبکہ 349 گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔
*شاہراہوں اور ٹریفک کی حفاظت*
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سندھ پولیس ہائی وے پٹرول، جو دو ہزار 150 کلومیٹر سے زائد اہم شاہراہوں پر خدمات انجام دے رہی ہے، سیکیورٹی الرٹس پر فوری کارروائی، مسافروں کی مدد اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹریفک ریگولیشن اینڈ اسٹیشن سسٹم (ٹریکس) کے تحت 12 لاکھ 40 ہزار سے زائد ڈیجیٹل ٹریفک چالان جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں 44 فیصد، ہلاکتوں میں 19 فیصد اور زخمی ہونے کے واقعات میں 27 فیصد کمی آئی۔
*سرحدی سیکیورٹی مزید مؤثر*
اجلاس میں حب کراچی، جامشورو حب، دادو خضدار، کشمورڈیرہ بگٹی راجن پور، گھوٹکی رحیم یار خان اور ساحلی علاقوں سمیت اہم بین الصوبائی اور عبوری سرحدی مقامات پر سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ صوبے بھر کے 139 کراسنگ پوائنٹس پر پولیس چوکیوں، اسنیپ چیکنگ، موبائل پٹرولنگ اور موٹر سائیکل پٹرولنگ یونٹس کے ذریعے سیکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائے گئے ہیں۔
*وزیراعلیٰ کی ہدایات*
امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موجودہ رفتار برقرار رکھنے اور انسدادی پولیسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جرائم پیشہ عناصر، دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔وزیراعلیٰ نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مزید تیز کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا نظام مضبوط بنانے، بین الصوبائی سرحدوں پر مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنانے اور موبائل فون چھیننے اور اسٹریٹ کرائم کے ہاٹ اسپاٹس کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت کی۔انہوں نے منظم جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا، جبکہ کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔مراد علی شاہ نے مزید ہدایت کی کہ چینی شہریوں، غیر ملکی سفارتی مشنز، حساس تنصیبات اور مذہبی اجتماعات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، اور تمام ادارے سندھ بھر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے باہمی رابطے کے ساتھ کام جاری رکھیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع ہر وقت چوکس رہے۔ امن و امان کی بہتری کے لیے حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستقل، مربوط اور مؤثر اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم کرنا ہوگا۔






