*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے وفاق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی ملاقات*

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ سے ملاقات کی جس میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان فریم ورک، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی)، نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان، ڈیٹا گورننس، مصنوعی ذہانت اور سندھ کے ڈیجیٹل اقدامات کو قومی ڈیجیٹل ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر کے ہمراہ وفاقی سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم خان، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل منیر اور اِگنائٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال عباسی تھے۔ وزیر اعلیٰ کی معاونت ان کے آئی ٹی سے متعلق خصوصی معاون علی راشد، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری آئی ٹی آغا سہیل اور سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (ایس آئی ٹی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زین العابدین شاہ اور دیگر نے کی۔وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے وزیر اعلیٰ کو ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 اور ڈیجیٹل معاشرے، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کے ماحولیاتی نظام کے قیام سے متعلق وفاقی حکومت کے وژن پر بریفنگ دی۔بریفنگ میں وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کے کردار کو اجاگر کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، ڈیٹا گورننس اور مصنوعی ذہانت کے فریم ورکس کی تیاری کی ذمہ دار ہے۔وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پہلے ہی ملک بھر میں 100 سے زائد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ سندھ نے 50 سے زائد ڈیجیٹل اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں ایس آر بی ای سروسز، سندھ زمین، ای پے سندھ، ای آفس، سندھ جاب پورٹل، سیف سٹی نظام اور شہریوں کی ضروریات پر مبنی دیگر ڈیجیٹل خدمات شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے سرکاری اداروں کے درمیان باہمی ربط کو مزید بہتر بنانے، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر (واسل) کے ذریعے انضمام اور صحت، زراعت، رہائش، مالیاتی خدمات اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔سید مراد علی شاہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی ڈیجیٹل ایجنڈے کے لیے سندھ کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا تاہم اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ڈیٹا، نظام، ترجیحات اور عمل درآمد سے متعلق فیصلوں پر صوبائی اختیار برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کے مسودے کا جائزہ لے کر اپنی تجاویز پیش کرے گا، جبکہ صوبہ قومی مقاصد اور صوبائی ضروریات سے ہم آہنگ اپنا ڈیجیٹل ماسٹر پلان بھی تیار کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے محکموں میں ڈیجیٹل، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے لیے مخصوص دفاتر کے قیام کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز کی حمایت کی اور اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل گورننس، الیکٹرانک ریکارڈز، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی کو شامل کرنے کے لیے قواعدِ کار، خریداری کے طریقہ کار اور منصوبہ بندی کے فریم ورکس کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی اور واسل انضمام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ اطلاعات سائنس و ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ساتھ رابطہ جاری رکھا جائے اور متعلقہ صوبائی محکموں کے ساتھ مشاورت مکمل کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیٹا کے اشتراک کے کسی بھی فریم ورک میں صوبے کے ڈیٹا پر اختیار اور ملکیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔اجلاس کے اختتام پر ڈیجیٹل گورننس، عوامی خدمات کی فراہمی میں اصلاحات، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا گورننس اور ترجیحی شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button