سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے جمعرات کو صوبے بھر میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، صنفی مساوات اور شواہد پر مبنی طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے سندھ حکومت اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔یہ عزم وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں دونوں جانب سے سندھ میں اقوام متحدہ کے تعاون سے جاری مختلف اقدامات کا وسیع جائزہ لیا گیا اور اقوام متحدہ کا دن 2026 منانے کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اقوام متحدہ کا دن 2026 ایک بڑے ثقافتی دن کے طور پر منانے کی تجویز ہے، جس میں ثقافتی تنوع، شمولیت اور بین الاقوامی تعاون کو اجاگر کیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم احمد شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی اور سیکریٹری ثقافت خیر محمد کلوار نے شرکت کی۔اقوام متحدہ کے وفد میں پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے دفتر کی سربراہ افکے بوٹس مین، یونیسیف سندھ کے چیف فیلڈ آفیسر پریم چند بہادر، اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے دفتر سندھ کے صوبائی کوآرڈینیٹر عمران خان لغاری اور دیگر حکام شامل تھے۔
*اقوام متحدہ کا دن 2026 اور ثقافتی سفارت کاری*
اجلاس میں 24 اکتوبر کو منائے جانے والے اقوام متحدہ کے دن 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور محکمہ ثقافت کے ساتھ مل کر صوبے بھر میں ایک ثقافتی دن منعقد کرنے کے لیے رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سندھ کے بھرپور ثقافتی ورثے کے ساتھ عالمی ثقافتی تنوع کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ مراد شاہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور وزیر ثقافت سید ذوالفقار شاہ کو ہدایت کی کہ وہ اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے تعلیمی اداروں، فنکاروں، ثقافتی تنظیموں اور نوجوانوں کے گروپس کی بامعنی شرکت یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ تقریب باہمی افہام و تفہیم، برداشت اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ سندھ اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو بھی مضبوط کرے گی۔وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے اقوام متحدہ کا دن ثقافتی دن کے طور پر منانے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہمیشہ سے تنوع، برداشت اور بقائے باہمی کی سرزمین رہا ہے۔ مجوزہ ثقافتی دن سندھ کے بھرپور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ بین الثقافتی مکالمے اور عالمی مفاہمت کے فروغ کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبادلے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرتے اور برادریوں اور قوموں کے درمیان پل بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
*اقوام متحدہ اور سندھ کے درمیان شراکت داری میں توسیع*
وزیراعلیٰ کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی تعاون کے فریم ورک کے تحت سندھ میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی وسیع معاونت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں صحت، غذائیت، تعلیم، پانی اور صفائی، سماجی تحفظ، موسمیاتی لچک، صنفی مساوات، اقتصادی ترقی، طرز حکمرانی اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کے شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔
*صحت اور غذائیت میں پیش رفت*
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں نے سندھ بھر میں بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیا، ہنگامی ردعمل کی خدمات میں توسیع کی اور حفاظتی ٹیکہ جات، پولیو کے خاتمے اور ماں اور بچے کی صحت کے اقدامات میں معاونت فراہم کی۔جلاس کو بتایا گیا کہ قومی حفاظتی ٹیکہ جات کی حکمت عملی 2025-2030 کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی گئی ہے اور سندھ نے زچگی اور نوزائیدہ بچوں میں تشنج کے خاتمے کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی توثیق بھی حاصل کرلی ہے۔شرکاء کو بتایا گیا کہ بینظیر نشوونما مراکز کے ذریعے غذائیت سے متعلق اقدامات سے تقریباً 16 لاکھ خواتین اور بچے مستفید ہوئے، جبکہ 8 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں میں غذائی قلت کی جانچ کی گئی۔ شدید غذائی قلت کے 55 ہزار سے زائد کیسز کو علاج کی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے نوعمر لڑکیوں کو آئرن اور فولک ایسڈ کی سپلیمنٹس بھی فراہم کی گئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت، تعلیم، پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں سرمایہ کاری صوبائی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ رہے گی۔
*تعلیم اور انسانی ترقی*
اقوام متحدہ کے وفد نے اجلاس کو بتایا کہ بین الاقوامی معاونت کے ذریعے عالمی شراکت داری برائے تعلیم کے تحت 3 کروڑ ڈالر کی رقم متحرک کی گئی ہے، جبکہ یونیسیف گرانٹ ایجنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی انتظام کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اجلاس میں اسکول سے باہر بچوں کے چیلنج سے نمٹنے اور سندھ بھر میں تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے تیار کیے گئے پانچ سالہ روڈ میپ کا جائزہ لیا گیا۔وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا، ’’تعلیم سماجی تبدیلی کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ساتھ ہماری شراکت داری نے اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، اساتذہ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور اسکول سے باہر بچوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد کی ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے کہ سندھ کے ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خصوصاً کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے جامع اور مساوی تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
*پانی، صفائی اور موسمیاتی لچک*
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کی پینے کے پانی اور صفائی کی پالیسیوں میں موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جبکہ تقریباً 18 لاکھ افراد تک محفوظ پانی کی رسائی بڑھائی گئی ہے۔اقوام متحدہ کے تعاون سے جاری اقدامات کے تحت درجنوں سرکاری پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی بحالی، کمزور آبادیوں میں بلند ہینڈ پمپس کی تنصیب اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، تیرتے ہوئے ویٹ لینڈز اور کچرے کی ری سائیکلنگ جیسے جدید حل متعارف کرائے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سندھ کو درپیش سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے اور آفات سے نمٹنے کی تیاری، سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت اور پانی کے پائیدار انتظام کو مضبوط بنانے میں اقوام متحدہ کی معاونت کو سراہا۔
*صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا*
اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین اور شراکت دار اداروں کی قیادت میں صنفی حساس طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے، خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور معاشی مواقع میں توسیع کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔شرکاء نے صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کی خدمات، خواتین کی قیادت کے پروگراموں، مالی شمولیت کے اقدامات اور سندھ گھریلو تشدد ایکٹ پر عملدرآمد میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ہزاروں خواتین اور لڑکیوں نے پیشہ ورانہ، ڈیجیٹل اور مالی خواندگی کے پروگراموں سے استفادہ کیا، جبکہ صوبے بھر میں ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹرز اور انسدادِ عصمت دری بحران مراکز جیسے ادارہ جاتی طریقہ کار کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
*موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی*
اقوام متحدہ کے وفد نے وزیراعلیٰ کو سندھ میں جاری بڑے موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی پروگراموں کے بارے میں بھی بریفنگ دی، جن میں ماحولیاتی نظام کی بحالی، موسمیاتی اعتبار سے بہتر زراعت، پانی کا تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں لچک رکھنے والی زراعت، ابتدائی انتباہی نظام، آفات کے خطرات میں کمی، آبی علاقوں کے تحفظ اور لیونگ انڈس انیشی ایٹو کی معاونت کرنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔موسمیاتی اقدامات میں نوجوانوں کی شمولیت، بین الاقوامی موسمیاتی فورمز سے متعلق تیاریوں اور پاکستان کی قومی سطح پر متعین کردہ شراکت داریوں کی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
*طرز حکمرانی، روزگار اور اقتصادی ترقی*
وزیراعلیٰ کو طرز حکمرانی میں اصلاحات، ہنرمندی کی ترقی، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے شعبوں میں اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ جاری تعاون سے آگاہ کیا گیا۔شرکاء نے نوجوانوں کے روزگار، کاروبار اور بااختیار بنانے کے پروگرام، اسکولوں میں کھانے کے پروگرام، سیلاب سے بحالی کے منصوبوں، پانی کی فراہمی کی اسکیموں اور دیہی ترقی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والے متعدد منصوبے سندھ بھر میں کمزور طبقات کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مہارتوں میں اضافے، کاروباری ترقی اور سماجی تحفظ میں معاونت کر رہے ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا، ’’اقوام متحدہ سندھ کا ایک قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار رہا ہے، خصوصاً ہمارے مشکل ترین ادوار میں، جن میں سیلاب، صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال اور موسمیاتی آفات شامل ہیں۔ ہم اس شراکت داری کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایسے شعبوں میں اپنے تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں جو براہ راست ہمارے عوام کی زندگیوں میں بہتری لاتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’سندھ شواہد پر مبنی طرز حکمرانی، موسمیاتی لچک، سماجی شمولیت اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی معاونت سے ہم اداروں کو مضبوط، عوامی خدمات کو بہتر اور آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ لچکدار مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے پائیدار ترقی اور جامع طرز حکمرانی کے لیے سندھ حکومت کے عزم کو سراہا۔انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ کو حکومت سندھ کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری پر فخر ہے۔ ہم نے مل کر صحت، تعلیم، غذائیت، موسمیاتی لچک، صنفی مساوات اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں اہم پیش رفت کی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا مشترکہ مقصد ایک ایسے لچکدار، جامع اور خوشحال سندھ کی تعمیر ہے جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ اقوام متحدہ جدت، شراکت داری اور شواہد پر مبنی حل کے ذریعے صوبے کی ترقیاتی ترجیحات میں معاونت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔‘‘اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، جاری ترقیاتی پروگراموں پر عملدرآمد تیز کرنے اور اقوام متحدہ کے دن 2026 کے لیے رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سندھ کی جانب سے لچکدار ترقی، جامع ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور تمام شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری کی کوششوں میں مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔






