پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری مکمل،اسلام آباد،کوئٹہ تاخیری حربے،کے پی کے حلقہ بندیاں مکمل نہ ہو سکیں،گلگت بلتستان نظر انداز

الیکشن کمیشن میں تمام صوبوں،وفاقی دارالخلافہ اور کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور تیاریوں کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا۔اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی۔ اجلاس میں معزز ممبران نثار احمد درانی،شاہ محمد جتوئی،جسٹس (ریٹائرڈ) اکرام اللہ،سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔صوبہ پنجاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بریف کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لئے تیار ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کو ڈرافٹ الیکشن شیڈول بھیج دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صوبائی حکومت سے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران، ریٹرنگ افسران اور اسٹنٹ ریٹرنگ افسران کی تعیناتی کے لئے فہرستیں مانگ لی گئی ہیں تاکہ الیکشن کمیشن مذکورہ بالا تعیناتیاں کر سکے۔ مزید یہ کہ پنجاب صوبائی حکومت جلد از جلد ڈرافٹ الیکشن شیڈول پر رد عمل دے۔وفاقی دارالخلافہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔البتہ وفاقی دارالخلافہ ترمیمی آرڈیننس 2026 کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ لہذا الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کہ مذکورہ بالا آرڈینینس کے مطابق قانون سازی کی منظوری قائمہ کمیٹی دے چکی ہے۔لہذا اس منظوری کے مطابق قانون سازی کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ اگر اس سلسلے میں قانون سازی نہیں کی جاتی تو الیکشن کمیشن موجودہ مقامی حکومت کے قانون وفاقی دارالخلافہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے مطابق الیکشن کروادے گا۔کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے تمام کنٹونمنٹس میں حلقہ بندی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔الیکشن کمیشن کنٹونمنٹس میں انتخابات کروانے کے لئے تیار ہے ۔ البتہ کنٹونمنٹ ایکٹ 2023 کے سیکشن (2)D-19 کے تحت وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو کنٹونمنٹس میں انتخابات کروانے کی درخواست کرنی ہے جو کہ الیکشن کمیشن کی یادہانیوں اور چیف الیکشن کمشنر کی وزیر اعظم پاکستان کو تحریر کردہ چٹھی کے باوجود مذکورہ بالا درخواست الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے سلسلے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا کہ ایک حتمی چٹھی وزارت دفاع کو لکھی جائے اگر اس پر کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہ ہواتو الیکشن کمیشن الیکشن کے انعقاد کے سلسلے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔ صوبہ خبیر پختو نخواہ کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بریف کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صوبہ کے 23 اضلاع میں حلقہ بندی کا عمل مکمل کر دیا تھا جبکہ 7 میں جاری تھا۔اس دوران صوبائی حکومت نے خیبر پختو نخواہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2023 کی سیکشن (E) (5) میں ترمیم کی اور ویلج اور نیبر ہوڈ کو نسلز (Village And Neighborhood) کی حلقہ بندی کے لئے تھریش 15000-5000 سے بڑھا کر 40000-30000 کر دیا۔ جو کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے 9 شیڈول )Thresh hold( ہولڈ میں دی گئی، ویلج کو نسلز اور نیبر ہوڈ کونسلز کی تعداد کے مطابق نہیں ہے۔اگر ترمیم شدہ تھریش ہولڈ پر عمل کیا جائے تو نیبر ہوڈ اور ویلج کونسلز کی حلقہ بندی ممکن نہیں کیونکہ ویلج ہوڈ کونسلوں کی تعداد اور ترمیم شدہ Thresh hold آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ اس پر صوبائی حکومت کو کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کرے اور مذکورہ بالا ایکٹ کے 9Schedule میں نیبر ہوڈ اور ویلج کو نسلوں کی تعداد میں مناسب ترمیم کرے تاکہ الیکشن کمیشن صوبے میں حلقہ بندی اور الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے ۔صوبائی حکومت کے کوئی اقدام نہ اٹھانے پر کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔ اور الیکشن کمیشن اس سلسلے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔صوبہ بلوچستان کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ بلدیاتی اداروں کی معیاد 8 فروری 2027 کو ختم ہو گی۔ البتہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد فیڈرل آئینی عدالت کے حکم کے باوجود ممکن نہیں ہو سکا۔ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم کے مطابق حلقہ بندی کا عمل مورخہ 21 مئی 2026 کو مکمل کر لیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے کوئٹہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کر دیا جس کی حد بندی کی تفصیل اور دیگر ڈیٹا الیکشن کمیشن کو مہیا نہیں کیا گیا۔اور صوبائی حکومت کا اس سلسلے میں رد عمل بالکل سست ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت کو تحریر کیا جائے کہ وہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے قانون سازی فوری مکمل کرے۔ اور عدالتی حکم کی تعمیل یقینی بنائے۔سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے بر وقت انتخابات کے انعقاد کے لئے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور دفتر کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

جواب دیں

Back to top button