*چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر بلاک ٹو کے فیز 3 کا افتتاح کردیا*

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو تھر بلاک ٹو کوئلے کی کان کے فیز تھری توسیع اور پاکستان کے پہلے کول ڈرائنگ یونٹ کا افتتاح کیا، جو تین دہائیاں قبل شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن سے شروع ہونے والے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے جس کا مقصد پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے استفادہ کرنا تھا۔تھر کول بلاک ٹو میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے تھر کے عوام، کارکنوں، انجینئرز اور تمام متعلقہ فریقوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ایک خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا تھر کا دورہ کرنے اور ان منصوبوں کی مسلسل حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے خطے کے معاشی مستقبل کو تبدیل کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع کو ایک ایسے تاریخی سفر کا تسلسل قرار دیا جو 1996 میں شروع ہوا، جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے تھر میں 2,640 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ انہوں نے اس موقع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سنگِ بنیاد سابق وزیراعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے دور میں رکھا گیا تھا، جو موجودہ وزیراعلیٰ کے والد تھے، جبکہ آج اس منصوبے کا افتتاح بینظیر بھٹو کے صاحبزادے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں اور مراد علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والے وژن کی تکمیل ہے۔ بینظیر بھٹو نے پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنے اور تھر کے عوام کی زندگی بہتر بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ آج وہ وژن حقیقت بن رہا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کیے جانے کے بعد یہ منصوبہ کئی سال تک نظرانداز رہا، جس کے باعث ان فوائد میں تاخیر ہوئی جو پاکستان کے توانائی کے شعبے کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اس منصوبے کو دوبارہ فعال کیا اور متعدد چیلنجز کے باوجود اس پر عملدرآمد آگے بڑھایا۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب منصوبے کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور وفاقی سطح پر بھی معاونت کا فقدان تھا۔ تاہم سندھ حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کے عزم اور شراکت داری کے ذریعے منصوبہ آگے بڑھتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ایک اہم مرحلے کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ طور پر منصوبے کی ترقی کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ کہتے رہے کہ اگر تھر بدلے گا تو پاکستان بدلے گا۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہ وعدہ پورا کیا ہے۔

*فیز تھری توسیع*

تقریب میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیز تھری توسیع کے نتیجے میں کان کی پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سالانہ سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن سالانہ ہوگئی ہے، جس سے سالانہ 3.6 ملین ٹن اضافی کوئلہ حاصل ہوگا۔ یہ توسیع 100 فیصد خود مالی معاونت کے ذریعے مکمل کی گئی ہے، جو منصوبے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔اضافی کوئلے کی پیداوار لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے 660 میگاواٹ کے بجلی گھر کو ایندھن فراہم کرے گی، جس کے نتیجے میں تھر بلاک ٹو کے کوئلے سے پیدا ہونے والی مجموعی بجلی 1,320 میگاواٹ سے بڑھ کر 1,980 میگاواٹ ہوجائے گی، جو روزانہ تقریباً 45 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔منصوبے کے حکام نے بتایا کہ کان کے مقام پر بجلی پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 3.75 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جس کے باعث یہ ملک میں دستیاب توانائی کے سستے ترین ذرائع میں شامل ہے اور درآمدی کوئلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا سستا ہے۔ توسیع سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں سالانہ تقریباً 15 ارب روپے اور ہر سال تقریباً 22 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے، جبکہ منصوبے کے آغاز سے اب تک مجموعی زرمبادلہ کی بچت 1.7 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

*تھر کی تبدیلی*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھر کول منصوبے نے ایک ایسے خطے کو جو کبھی خشک سالی اور محرومی کے حوالے سے جانا جاتا تھا، معاشی سرگرمیوں اور مواقع کے مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے یہ سفر شروع کیا تھا تو تھر میں سڑکیں، صحت کی سہولیات، تعلیمی ادارے اور بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ آج جدید سڑکوں، ایک ہوائی اڈے، اسکولوں، اسپتالوں اور صاف پینے کے پانی کے منصوبوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے عوامی بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اسلام کوٹ میں گھریلو سطح کے چھوٹے صارفین کے لیے مفت بجلی کی فراہمی اور دور دراز دیہات میں شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ علاقے میں صحت کی سہولیات مزید بہتر بنانے کے لیے اسلام کوٹ میں 50 بستروں پر مشتمل ماں اور بچے کا اسپتال ایک سال کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔

*کمیونٹی کی ترقی اور روزگار*

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے سے وابستہ 94 فیصد ملازمین اور سروس فراہم کرنے والے افراد کا تعلق سندھ سے ہے، جبکہ 60 فیصد تھرپارکر کے رہائشی ہیں۔ تھر فاؤنڈیشن اور سندھ حکومت کی معاونت سے 5 لاکھ سے زائد مریض مفت طبی علاج حاصل کرچکے ہیں، ہر ماہ 1 کروڑ 20 لاکھ لیٹر سے زائد صاف پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ کمیونٹی کی ترقی کے اقدامات کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں 5 ہزار سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی کو بتایا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے پروگراموں کے تحت تقریباً 12 لاکھ درخت لگائے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں گھرانے شمسی توانائی، صفائی ستھرائی اور روزگار کے منصوبوں سے مستفید ہوئے ہیں۔

*ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام*

دورے کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی (ایس ایم ایچ اے) سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے تھرپارکر میں اتھارٹی کے جاری ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے اقدامات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر خواجہ نے چیئرمین کو بتایا کہ مسلسل آگاہی مہمات، ٹیلی سائیکاٹری خدمات، نفسیاتی کیمپس، طبی عملے کے تربیتی پروگراموں اور تھر فاؤنڈیشن، محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی سندھ، جے پی ایم سی، لمس اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون سے جاری کمیونٹی رابطہ سرگرمیوں کے باعث تھر میں خودکشی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر 2018 سے ایس ایم ایچ اے اور اس کے شراکت داروں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں تھر کی پہلی ٹیلی سائیکاٹری سروس کا آغاز، ضلع کی تمام سات تحصیلوں میں مفت نفسیاتی کیمپس، ڈاکٹروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے خصوصی تربیت اور بڑے پیمانے پر ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات شامل ہیں۔سرکاری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق تھرپارکر، جو ماضی میں سندھ میں رپورٹ ہونے والے خودکشی کے واقعات کے حوالے سے پہلے نمبر پر تھا، اب چوتھے نمبر پر آگیا ہے، جو ذہنی صحت سے متعلق مسلسل اقدامات اور کمیونٹی کی شمولیت کی کوششوں کے نتیجے میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور اس کے شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا اور دور دراز اور کمزور طبقات پر مشتمل آبادیوں میں ذہنی صحت کی معاونت کی خدمات جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

*مستقبل کا وژن*

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تھر کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی توانائی کی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے اپنے قدرتی وسائل فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے عوام نے پاکستان کو ایک قیمتی اثاثہ دیا ہے۔ آج تھر بدل رہا ہے، پاکستان ترقی کر رہا ہے اور ہماری ترقی کا سفر نئے عزم اور رفتار کے ساتھ جاری ہے۔تقریب میں وفاقی اور صوبائی قانون سازوں، اعلیٰ سرکاری حکام، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی)، تھر فاؤنڈیشن کے نمائندوں، مقامی کمیونٹی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور تھرپارکر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button