وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت لیاری ٹرانسفارمیشن پلان پرپیش رفت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت لیاری ٹرانسفارمیشن پلان کی کارکردگی، پیش رفت اور منصوبے کو درپیش مسائل کے جائزے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن قومی اسمبلی نبیل گبول، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پرسنل سیکریٹری جنید احمد جیدی، اراکین سندھ اسمبلی یوسف بلوچ اور شازیہ کریم سنگھار، پاکستان پیپلزپارٹی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر جاوید ناگوری، ٹاؤن چیئرمینز سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے مختلف منصوبوں، جاری ترقیاتی کاموں، فراہمی آب و نکاسی آب کے نظام، غیر قانونی تعمیرات، پانی اور سیوریج کے غیر قانونی کنکشنز سمیت منصوبے کی رفتار میں حائل رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے فیز ون کو اگست 2027 تک مکمل کیا جائے گا، اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کی رفتار کو مزید تیز کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور جن معاملات کے باعث ترقیاتی کاموں میں سست روی پیدا ہو رہی ہے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ لیاری میں فراہمی آب اور سیوریج کے ناجائز کنکشنز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے، جبکہ غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونی کنکشنز کی سختی سے روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کو اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام دینا ہوں گے۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی نبیل گبول اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے حوالے سے اپنے تحفظات، تجاویز اور مختلف مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پانی اور سیوریج کی لائنوں سے متعلق منصوبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو حل کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی کاموں کی رفتار متاثر نہ ہو۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کو ایک مثالی علاقہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہدایت کے مطابق لیاری کو سندھ کا رول ماڈل ٹاؤن بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی رفتار اور کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور تمام متعلقین کا ہر پندرہ روز بعد اجلاس منعقد کیا جائے گا، تاکہ منصوبے میں ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل پر بروقت فیصلہ کیا جاسکے۔ وزیر بلدیات نے لیاری ٹاؤن میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ منصوبے کی سست روی یا غفلت کے مرتکب تمام متعلقہ افسران کو فوری طور پر فارغ کیا جائے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں کی شکایت پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) لیاری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو معطل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں، عوامی مفاد سے وابستہ منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اجلاس میں لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے مختلف ترقیاتی کاموں کی رفتار، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور منصوبے کے مختلف حصوں کی تکمیل کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ متعلقہ محکمے اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور کسی بھی انتظامی یا تکنیکی رکاوٹ کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے بنیادی شہری مسائل کے حل، انفرااسٹرکچر کی بہتری، پانی و سیوریج کے نظام کی اصلاح اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنا حکومت سندھ کی ترجیح ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ لیاری کے منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے منصوبے کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچائے جائیں گے اور ترقیاتی کاموں کے معیار اور رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button