صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں ریبیز سے بچاؤ اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ میں شرکت کی، جہاں ریبیز کی روک تھام، بروقت طبی امداد، احتیاطی تدابیر اور کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورکشاپ میں پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن، پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد شیر، سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر سراج سانگی، ڈاکٹر سلیمان، ڈاکٹر عرفان سمیت ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریبیز ایک انتہائی اہم اور جان لیوا بیماری ہے، جس کے بارے میں عوام میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ریبیز جیسی خطرناک بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں فوری طبی امداد اور درست طریقہ کار اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے، کتے کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ جگہ کو فوری طور پر صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے، بروقت صفائی اور طبی امداد سے ریبیز کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ریبیز کی روک تھام کے لیے کتوں کی نس بندی کا پروگرام جاری ہے، جس کا مقصد آوارہ کتوں کی افزائش نسل کو کنٹرول کرنا اور شہریوں کو ریبیز جیسے جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنا ہے، حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں ریبیز کے کیسز میں نمایاں کمی بھی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں کی جانیں انتہائی قیمتی ہیں، اس لیے ریبیز سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، فوری طبی امداد اور مؤثر انتظامی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ریبیز سے بچاؤ کے حوالے سے عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کتے کے کاٹنے یا خراش کی صورت میں متاثرہ حصے کو تقریباً بیس منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھونا انتہائی اہم ہے، اس کے بعد فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کرکے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ویکسین اور دیگر ضروری علاج کروایا جائے۔ انہوں نے ریبیز سینٹرز میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طبی عملہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر پورے صوبے میں ریبیز سینٹرز کے فنڈز کا مسئلہ حل کیا جاچکا ہے، حکومت ریبیز کے علاج اور روک تھام کے مراکز کو ضروری وسائل فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ریبیز کی روک تھام صرف حکومت یا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، شہریوں، بلدیاتی اداروں اور طبی ماہرین کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی سیاست پر نظرثانی کرنی چاہیے اور احتجاج و دھرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کسی قسم کی نرمی کے قابل نہیں، ریاست اور عوام کے تحفظ کے لیے دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو جمہوری اور مذاکراتی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔ ورکشاپ کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کو روایتی اجرک پہنائی گئی اور انہیں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
Read Next
4 گھنٹے ago
*کراچی کے صنعتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کےلئے پرعزم ہیں،وزیراعلیٰ سندھ*
1 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ نے چوکنڈی میں 9.5 ارب روپے کی لاگت سے ایس ایس یوہیڈ کوارٹرز اور سیکیورٹی ٹریننگ اکیڈمی کی اصولی منظوری دے دی
2 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت لیاری ٹرانسفارمیشن پلان پرپیش رفت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
5 دن ago
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیرصدارت ورلڈ بنک کے وفد کا اجلاس
6 دن ago






