*وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اپ گریڈ سکولز دو اپریل 2027 سے فعال کرنے کی ہدایت کردی*

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو ہدایت کی ہے کہ سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ (ایس ایس ای آئی پی) کے تحت اپ گریڈ کیے گئے تمام نئے اسکول 2 اپریل 2027 سے فعال بنائے جائیں اور صوبے بھر میں بھرپور داخلہ مہم شروع کی جائے تاکہ اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں لایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی کافی نہیں، ہر اپ گریڈ کیے گئے اسکول میں پہلے دن سے اساتذہ، طلبہ اور تدریسی سہولیات کی موجودگی کے ساتھ اسے مکمل طور پر فعال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف اسکول تعمیر کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ بچے داخلہ لیں، باقاعدگی سے اسکول آئیں اور اپنے گھروں کے قریب معیاری تعلیم حاصل کریں۔اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پی ایس سی ایم آغا واصف، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن، پی ڈی ایس ایس ای آئی پی رضوان سومرو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ کو ایس ایس ای آئی پی اور سلیکٹ اسکولز، داخلہ مہمات، اساتذہ کی تعیناتی کے منصوبوں اور ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (ای ایم اوز) کی مجوزہ شمولیت سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔

*ایس ایس ای آئی پی اسکولز داخلہ مہم*

وزیر تعلیم سردار شاہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 21 سے 30 ستمبر تک ضلع ٹھٹھہ کے پانچ نئے اپ گریڈ کیے گئے سیکنڈری اسکولوں میں چلائی گئی پائلٹ داخلہ مہم کے نتیجے میں صرف نو روز کے دوران چھٹی سے دسویں جماعت تک 702 طلبہ کا داخلہ ہوا۔ ان میں 409 طالبات شامل ہیں، جبکہ اسکول سے باہر 102 بچوں اور اسکول چھوڑنے والے بچوں کو دوبارہ اسکول لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی موبلائزیشن ٹیموں نے 116 فیڈر اسکولوں کا دورہ کیا، 17 محلوں اور 23 دیہات تک رسائی حاصل کی اور والدین، اساتذہ اور مقامی عمائدین کو شامل کرتے ہوئے گھر گھر آگاہی مہم چلائی۔وزیراعلیٰ نے حوصلہ افزا نتائج کو سراہتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ اس ماڈل کو صوبے بھر میں اپنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ لڑکیوں کی تعلیم اور اسکول چھوڑنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔پی ڈی رضوان سومرو نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے بھر میں ایس ایس ای آئی پی اور سلیکٹ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 1,133 اسکول شامل ہیں، جن میں 838 اسکول ایس ایس ای آئی پی اور 295 اسکول سلیکٹ کے تحت ہیں۔ عملدرآمد کے شیڈول کے مطابق دسمبر 2026 تک 552 اسکول مکمل ہونے کی توقع ہے، جو مارچ 2027 تک بڑھ کر 801 ہو جائیں گے، جبکہ تمام 1,133 اسکول دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔تعمیراتی کام کی مدت کا جائزہ لیتے ہوئے مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت کی کہ مارچ 2027 تک مکمل ہونے والے تمام اسکولوں میں فرنیچر، عملہ اور طلبہ کے لیے تمام انتظامات مکمل کرکے انہیں 2 اپریل 2027 تک فعال بنایا جائے۔ انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز سے قبل اساتذہ کی بروقت تعیناتی اور تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کا بھی حکم دیا۔سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ پانچ پائلٹ اسکولوں میں اس وقت مجموعی طور پر 1,406 طلبہ زیرتعلیم ہیں اور تدریسی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی اساتذہ کی تعیناتی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔اپ گریڈ کیے گئے اداروں کے مستقبل کے انتظام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور محکمہ تعلیم اور پی پی پی یونٹ کو ہدایت کی کہ شفاف اور پائیدار فریم ورک کو حتمی شکل دی جائے، جو جوابدہی یقینی بنانے کے ساتھ تعلیمی نتائج میں بہتری لائے۔اجلاس کے اختتام پر مراد علی شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ تعلیم سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو قریبی رابطے کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی تاکہ داخلوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ، اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر نیا اپ گریڈ کیا گیا اسکول مقامی آبادی کے لیے معیاری تعلیم کا مرکز بنے۔

جواب دیں

Back to top button