گلگت بلتستان میں زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں،وزیر اعلٰی امجد حسین

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں گلگت بلتستان کو خود کفیل بنانے کے وژن کے مطابق پنجاب حکومت کی جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور تجربات سے استفادہ کرنے کے فیصلے کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کی گئی سفارش پر پنجاب کے صوبائی وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین کرمانی، سیکریٹری زراعت پنجاب شکیل احمد میاں، سیکریٹری لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ احمد عزیز تارڑ، سیکریٹری ایکوا کلچر اینڈ فشریز رانا سلیم افضل، چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر عبدالرحمن اور ڈی جی انفارمیشن ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ نوید عصمت کاہلوں نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔اس موقع پر پنجاب کے وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے خصوصی ملاقات کی، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں متعارف کرائی جانے والی خصوصی اصلاحات اور اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری درخواست پر اپنے متعلقہ صوبائی وزیر اور ماہرین پر مشتمل ٹیم کو گلگت بلتستان بھیجا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان ان شعبوں میں خود کفیل بنانے، مقامی کسانوں اور زمینداروں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کو زرعی شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور نئے تجربات کے باعث زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی ان شعبوں کے فروغ کیلئے پنجاب کی جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور کامیاب تجربات سے استفادہ کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کا مخصوص جغرافیہ اور موسمی حالات زراعت، پھلوں کی پیداوار، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں کیلئے انتہائی موزوں ہیں۔ لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے کر گلگت بلتستان سے لائیو سٹاک اور ٹراؤٹ فش کو بین الاقوامی مارکیٹ اور ہمسایہ ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ دونوں صوبوں کے مابین زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے ٹیکنیکل گروپس تشکیل دئیے جائیں، جو باہمی تعاون کی دستاویز (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے کیلئے سفارشات مرتب کریں، تاکہ پنجاب میں ہونے والے جدید تجربات، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے گلگت بلتستان میں بھی بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت حاجی محمد انور، سیکریٹری زراعت و لائیو سٹاک عثمان احمد، سیکریٹری خوراک محمد اعظم خان اور دیگر اعلیٰ آفیسران بھی شریک تھے۔اس موقع پر پنجاب کے صوبائی وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی درخواست موصول ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے اور اس مقصد کیلئے وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان کا دورہ کریں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں متعدد خصوصی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کراپ رپورٹنگ سروس، ایگری ماڈل مالز اور گلگت بلتستان میں لائیو سٹاک کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی دلانے کیلئے سرٹیفکیشن کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں پنجاب حکومت، گلگت بلتستان حکومت کو مکمل معاونت اور تعاون فراہم کرے گی۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے زرعی شعبے کے فروغ کیلئے کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر پروگرام، ہائی ٹیک موبلائزیشن، بینک فنانسنگ، ایگری ماڈل مالز، ایگری کلچر انٹرن شپ پروگرام، ہائی ایفیشنسی ایریگیشن سسٹم اور منی ڈیمز کی تعمیر سمیت متعدد خصوصی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں سروس ڈیلیوری بیسڈ اقدامات کے تحت آپریشن تھیٹرز، ڈویژن کی سطح پر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی سہولیات، جدید لیبارٹریز، موبائل ویٹرنری فلیٹ، ماڈل ویٹرنری ہسپتال، چیف منسٹر انٹرن شپ پروگرام اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فشریز کے شعبے میں بھی روایتی طریقہ کار کی جگہ جدید اور بین الاقوامی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے، جس سے پیداوار، معیار اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ملاقات میں گلگت بلتستان اور پنجاب کے متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق، تربیت، سرٹیفکیشن اور زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button