* وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ (ایس آئی اے ایچ)، کورنگی میں جدید سہولیات کے ایک سلسلے کا افتتاح کیا اور اس منصوبے کو صوبے میں ویٹرنری صحت، سائنسی تحقیق، بیماریوں کی نگرانی اور لائیو اسٹاک کی ترقی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔حکومت سندھ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 631.798 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی نئی سہولیات میں جدید پیٹس اسپتال، ڈائیگنوسٹک بے، اکیڈمک و انتظامی بلاک، اپ گریڈ شدہ لیبارٹریز، پوسٹ مارٹم کی سہولیات اور فیلڈ ویٹرنری خدمات کے لیے موٹر سائیکلوں کا بیڑا شامل ہے۔ منصوبے پر کام دسمبر 2022 میں شروع ہوا اور جون 2026 میں مکمل کیا گیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’سندھ میں ویٹرنری صحت، سائنسی تحقیق، بیماریوں کی نگرانی اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔‘‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لائیو اسٹاک سندھ کی معیشت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے، جو زرعی ترقی، غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں لاکھوں خاندان اپنے روزگار کے لیے لائیو اسٹاک پر انحصار کرتے ہیں۔ بہت سے دیہی گھرانوں کے لیے لائیو اسٹاک نہ صرف آمدن کا ذریعہ ہے بلکہ مشکل حالات میں سہارا اور تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔تقریب میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی، وزیر محنت سعید غنی، وزیر زراعت محمد بخش خان مہر، وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی سلیم بلوچ اور آصف خان، اراکین سندھ اسمبلی، سینئر حکام، ویٹرنری سائنسدانوں، محققین، فیکلٹی اراکین اور کاشتکار برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے آمد کے بعد پیٹس اسپتال کا افتتاح کیا اور اس کے آپریشن تھیٹرز، وارڈز، ریکوری یونٹس اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات کا دورہ کیا۔ انہوں نے نئے قائم کردہ ڈائیگنوسٹک بے، پوسٹ مارٹم ہال اور لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا، جس کے بعد اکیڈمک اور انتظامی بلاک کا افتتاح کیا۔پیٹس اسپتال کو جدید آؤٹ پیشنٹ خدمات، آپریشن تھیٹرز، گیس اینستھیزیا سسٹمز، انتہائی نگہداشت یونٹس، تشخیصی امیجنگ کی سہولیات، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے وارڈز اور پالتو جانوروں کے لیے 24 گھنٹے آکسیجن تھراپی کی سہولت سے آراستہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ مرکز پالتو جانوروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی ویٹرنری علاج فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پالتو جانوروں کی صحت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر یہ اسپتال پالتو جانوروں کے مالکان کو معیاری ویٹرنری خدمات، جدید تشخیصی سہولیات اور خصوصی علاج تک رسائی فراہم کرے گا۔وزیراعلیٰ نے ڈائیگنوسٹک اینڈ ریسرچ کمپلیکس کا بھی افتتاح کیا، جس میں ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز، ویٹرنری فرانزک سہولیات اور جدید پوسٹ مارٹم انفرااسٹرکچر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ درست تشخیص بیماریوں پر مؤثر قابو پانے کی بنیاد ہے اور نئی لیبارٹریز جانوروں کی بیماریوں کی نشاندہی، نگرانی اور ان سے نمٹنے کے لیے سندھ کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط بنائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سہولیات بیماریوں کی نگرانی بہتر بنائیں گی، لائیو اسٹاک کے اثاثوں کا تحفظ کریں گی، عوامی صحت کو محفوظ بنائیں گی اور دودھ اور گوشت کی مصنوعات کے معیار اور تحفظ میں بہتری لائیں گی۔حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں اب دودھ اور ڈیری مصنوعات کے مائیکرو بائیولوجیکل اور کیمیائی تجزیے، پیراسائٹولوجی ٹیسٹنگ، بلڈ کیمسٹری، ہیپاٹولوجی اور فوڈ سیفٹی سے متعلق تحقیقات کے لیے جدید لیبارٹری سہولیات موجود ہیں۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیا قائم کردہ اکیڈمک اور انتظامی بلاک انسانی وسائل اور سائنسی ترقی میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سہولت جدید تدریس، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں معاون ثابت ہوگی، جن کا مقصد ویٹرنری سائنسدانوں، محققین اور ماہرین کی نئی نسل تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا علم نہ صرف سندھ بلکہ جانوروں کی صحت، غذائی تحفظ اور زرعی ترقی کے لیے پاکستان کی وسیع تر کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔اکیڈمک بلاک میں اسمارٹ بورڈز، آڈیو ویژول سسٹمز اور تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی سے آراستہ جدید کلاس رومز کے علاوہ 250 سے 300 شرکا کی گنجائش والا جدید ترین آڈیٹوریم بھی شامل ہے، جہاں قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز، سیمینارز اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جاسکیں گے۔تفصیلی بریفنگ کے دوران ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر نذیر کلہوڑو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا قیام سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ایکٹ 2018 کے تحت سابق سندھ پولٹری ویکسین سینٹر کو اپ گریڈ کرکے عمل میں لایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ پاکستان کا پہلا مخصوص ’’ون ہیلتھ‘‘ انسٹی ٹیوٹ ہے، جو جانوروں کی صحت، عوامی صحت اور ماحولیاتی صحت کے طریقہ کار کو یکجا کرتا ہے۔یہ انسٹی ٹیوٹ لائیو اسٹاک، پولٹری، جنگلی حیات، پالتو جانوروں، فشریز اور آبی حیاتیات کی صحت پر کام کرتا ہے، جبکہ بیماریوں کی تشخیص، نگرانی، ویکسین کی تیاری اور حیاتیاتی تحقیق کے مرکز کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا ہے۔بریفنگ کے مطابق سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ اس وقت ملک میں ویٹرنری ویکسین تیار کرنے کی سب سے بڑی سہولت ہے، جو سالانہ 250 ملین سے زائد ویکسین خوراکیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ جانوروں کی 75 مختلف بیماریوں کے خلاف ویکسین تیار کرتا ہے اور ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تربیتی پروگراموں میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے ویٹرنری فیلڈ سروسز کے لیے موٹر سائیکلوں کے بیڑے کا بھی افتتاح کیا اور ویٹرنری افسران اور فیلڈ اسٹاف کے حوالے دستاویزات کیں۔وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ موٹر سائیکلوں سے فیلڈ سروسز کی رسائی میں بہتری آئے گی اور ویٹرنری ٹیمیں دور دراز علاقوں میں لائیو اسٹاک فارمرز کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات، بیماریوں کی نگرانی اور مشاورتی خدمات فراہم کرسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بہتر انفرااسٹرکچر، پیشہ ورانہ صلاحیت، تشخیصی سہولیات اور فیلڈ کی سطح پر ویٹرنری خدمات کے ذریعے جانوروں کی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موٹر سائیکلوں کے بیڑے کی شمولیت سندھ بھر میں کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے قریب ویٹرنری خدمات پہنچانے کے لیے محکمے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں عالمی معیار کی سہولیات کا افتتاح لائیو اسٹاک کے شعبے کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔انہوں نے جدید تشخیصی لیبارٹریز، پوسٹ مارٹم کی سہولیات، خصوصی ویٹرنری کلینکس اور پالتو جانوروں کے لیے جدید طبی سہولیات کے قیام کو اجاگر کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ نئی سہولیات ریڈ سندھی گائے اور کنڈی بھینس جیسی قیمتی مقامی نسلوں کے تحفظ کے ساتھ لائیو اسٹاک کی بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیلڈ ویٹرنری خدمات کو مضبوط بنانے اور مویشی پالنے والے کسانوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے 150 موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں۔محمد علی ملکانی نے وزیراعلیٰ سے اہم ترقیاتی اسکیموں کے لیے باقی ماندہ فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے کی درخواست کی اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو مزید جدید بنانے کے لیے اضافی بجٹ فراہم کرنے پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے ویٹرنری خدمات کو مضبوط بنانے، بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو وسعت دینے، تشخیصی لیبارٹریز کو جدید بنانے، ویکسین کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور موبائل ویٹرنری صحت کی سہولیات کو فروغ دینے کے لیے حکومت سندھ کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن صرف جانوروں کی صحت تک محدود نہیں۔ ہمارا مقصد ایک جدید، مسابقتی اور پائیدار لائیو اسٹاک معیشت قائم کرنا ہے جو برآمدات، غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی ترقی میں کردار ادا کرے۔انہوں نے محققین، سائنسدانوں اور ویٹرنری ماہرین پر زور دیا کہ وہ نئی سہولیات کو لگن اور جدت کے ساتھ استعمال کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ تحقیق کے نتائج کسانوں کو درپیش عملی مسائل کے براہ راست حل میں معاون ثابت ہوں۔تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے نئی قائم کردہ سہولیات کا باضابطہ افتتاح کیا اور انہیں سندھ کے عوام، ویٹرنری سائنس کی ترقی اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیا۔
Read Next
1 گھنٹہ ago
مراد علی شاہ اورمحمد حنیف عباسی کے درمیان ملاقات،سندھ میں ریلوے خدمات کی توسیع اور جدت کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق
1 گھنٹہ ago
سندھ کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہو گا،واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی حکومت کا نظام فعال ہے،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
2 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کا اجلاس
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مائل اسٹونز سینٹر فار کاگنیٹو اینڈ لینگویج ڈویلپمنٹ کا دورہ
5 دن ago






