وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کی مرضی سے ہوگا اور نشاندہی کی کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کے لیے چھ قراردادیں منظور کرچکی ہے۔کورنگی میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پمز واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے پمز میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پورے پاکستان میں صحت کی سہولیات میں مسلسل بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں کہیں بھی صحت کی سہولیات موجود ہیں، وہاں حالات اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ صحت کے شعبے کو درپیش مسائل قومی نوعیت کے ہیں، تاہم ان کی آئینی ذمہ داری سندھ تک محدود ہے۔سندھ کی تقسیم سے متعلق تجاویز کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی مسلسل ایسی تجاویز کو مسترد کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی چھ مختلف مواقع پر صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صوبے کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں سندھ اسمبلی، اس کے منتخب اراکین اور سندھ کے عوام کو جوابدہ ہوں۔ بالآخر سندھ کے عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ نہ میری خواہش اور نہ ہی کسی اور کی ذاتی پسند عوام کی مرضی پر حاوی ہوسکتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے نچلی سطح پر جمہوریت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا پارٹی کے سیاسی فلسفے کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط بنانا اور اختیارات مقامی اداروں کو منتقل کرنا پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی حکومت کا نظام فعال ہے اور منتخب بلدیاتی ادارے مخصوص بلدیاتی قانون کے تحت کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی اداروں کو مزید مضبوط اور بااختیار بناتے رہیں گے۔ زیادہ اختیارات کے ساتھ احتساب، انتظامی صلاحیت اور خدمات کی فراہمی کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبوں کو بھی نچلی سطح پر مؤثر حکمرانی اور عوامی شمولیت یقینی بنانے کے لیے اپنے بلدیاتی نظام قائم اور مضبوط کرنے چاہئیں۔وزیراعلیٰ نے مجوزہ کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ کے منصوبے پر بھی بات کرتے ہوئے اسے سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا دیرینہ وژن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی میں اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقی دینے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا۔ سندھ حکومت نجی شعبے کے تعاون سے اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کام کر رہی ہے۔مراد علی شاہ نے کیٹی بندر کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم دونوں سے بھی قدیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ 1854 میں قائم ہوئی، جبکہ پورٹ قاسم 1972 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم کی گئی۔ کیٹی بندر اس سے بھی قدیم بندرگاہی مقام ہے اور بے پناہ تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی تجارت کی بدلتی ہوئی صورتحال اور حالیہ بین الاقوامی پیش رفت نے کیٹی بندر میں گہرے پانی کی بندرگاہ کے قیام کی ضرورت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر کیٹی بندر میں جدید گہرے پانی کی بندرگاہ کی اشد ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ خطے کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تھر کول کے ترقیاتی منصوبے کی کامیابی سے موازنہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے مجوزہ بندرگاہ کو سندھ اور پاکستان کے لیے ایک اور ممکنہ انقلابی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کول ایک گیم چینجر بن کر سامنے آیا ہے۔ ان شاء اللہ کیٹی بندر گہرے پانی کی بندرگاہ بھی ایک تاریخی ترقیاتی منصوبہ ثابت ہوگی، جو معاشی ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔میڈیا سے گفتگو کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے سندھ کے عوام کی خدمت اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے کام کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
Read Next
1 گھنٹہ ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں نئی سہولیات کا افتتاح کردیا*
1 گھنٹہ ago
مراد علی شاہ اورمحمد حنیف عباسی کے درمیان ملاقات،سندھ میں ریلوے خدمات کی توسیع اور جدت کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق
2 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کا اجلاس
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مائل اسٹونز سینٹر فار کاگنیٹو اینڈ لینگویج ڈویلپمنٹ کا دورہ
5 دن ago






