وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کا پہلا سپیشل ڈیٹا سنٹر، ”پنجاب ڈیٹا لیک“ (Punjab Data Lake)متعارف کرانے کا اعلان کیا اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفراسٹرکچر کے قائدین کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دورہ چین کے دوران ”بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو2026“ سے فکر انگیز تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام کے مرکز میں ایک ریاستی سطح کا مشترکہ ڈیٹا انجن موجود ہے، جسے OneMap کہا جاتا ہے۔”OneMap“ون میپ کے ذریعے 31 محکموں سے حاصل ہونے والے 12 ٹیرا بائٹس سے زیادہ جغرافیائی ڈیٹا اور 6,000 سے زائد ڈیٹا سیٹس کو مربوط نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔”OneMap“ون میپ کے ذریعے منصوبہ بندی، زمین سے متعلق تنازعات کے حل اور زیادہ دانشمندانہ شہری ترقی میں مددلی جاسکتی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت”OneMap” کو پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کے ساتھ بھی منسلک کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ون میپ مربوط سسٹم کے ذریعے حکومت اپنے شہریوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی، وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں ہدف بنا سکے گی اور درست افراد تک درست خدمات پہنچا سکے گی۔ان تمام نظاموں کے پسِ پشت ہم دیگر سسٹم کے ساتھ ساتھ Punjab Data Lake بھی تیار کر رہے ہیں۔ پنجاب میں پہلا مخصوص اور مختص ڈیٹا سینٹر ہماری خودمختار صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی محض دو ممالک یا دو حکومتوں کے درمیان تعلق کا نام نہیں۔ پاک چین دوستی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور اس یقین پر قائم مضبوط رشتہ ہے۔ مستقبل کو مل کر تعمیر کرتے ہیں تو ہماری کامیابیاں اور ہماری طاقت مزید بڑھ جاتی ہے۔صدرشی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت سے لیکر محمد نواز شریف کی دیرینہ اور تاریخی خدمات اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے مسلسل عزم سے پاک چین دوستی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔مجھے فخر ہے کہ میں پاک چین دوستی کے عظیم ورثے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری لے کر آئی
ہوں۔ پاک چین دوستی کو ایک نئے محاذ یعنی ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور مشترکہ جدت کی جانب لے جایا جائے۔ دنیا ڈیٹا کی حقیقی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم بھی نہیں کیا تھا جب وی جیاو نے سمجھ لیا تھا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وی جیاؤ ڈیٹا محض کے انتظامی امور کا ایک تکنیکی ضمنی نتیجہ نہیں بلکہ ڈیٹا بنیادی اور اہم انفراسٹرکچر ہے۔پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ مصنوعی ذہانت سے مستفید ہونے والا صوبہ ہے۔ پنجاب حکومت مصنوعی ذہانت کے شاندار تبدیلی کا حصہ بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایک ایسا ڈیجیٹل گورننس نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں قابلِ اعتماد ڈیٹا، شناخت، عوامی خدمات، انفراسٹرکچر، توانائی، مالیاتی نظام اور معاشی مواقع کے ساتھ منسلک ہو۔12 کروڑ 80 لاکھ آبادی پر مشتمل پنجاب کی حکمرانی نے ہمیں ڈیٹاکا بنیادی اصول سکھایا ہے۔ ڈیٹا کو صرف جمع نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد کے حصول کے لیے ہم ایک خودمختار، محفوظ اور ذہین ڈیجیٹل بنیاد تشکیل دے رہے ہیں۔ہم ڈیٹا کو محفوظ کر سکیں، اسے ذخیرہ کر سکیں، اس پر کارروائی کر سکیں اور اس کی حقیقی قدر کو بروئے کار لا سکیں۔حکومت ایک خودمختار کلاؤڈ، ڈیجیٹل شناخت، باہمی طور پر مربوط حکومتی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عمل درآمد کا نظام بھی تشکیل دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنا مخصوصAI Office قائم کیا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کو حکمرانی کے مرکز میں لایا جا سکے۔اے آئی آفس کامقصد زیادہ بہتر فیصلے کرنا، تیز تر عوامی خدمات فراہم کرنا، زیادہ شفافیت پیدا کرنا اور حکومت کو عوام کے لیے زیادہ مؤثر اور جواب دہ بنانا ہے۔پنجاب کے سیف سٹی منصوبے سے دکھائی دیتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی عوامی فائدے میں کس طرح تبدیل ہو سکتی ہے۔مربوط نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیوں کے ذریعے ہم اپنے شہروں کو زیادہ محفوظ بنا رہے ہیں۔ ہنگامی حالات میں ردِعمل کوبہتر کر رہے ہیں اور پولیسنگ کو زیادہ فعال، پیشگی اور مؤثر بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈیٹا کسی کاروباری شخص کو روایتی ضمانت کے بغیر اپنی مالی ساکھ ثابت کرنے میں مدد دے سکے، تو یہ حقیقی تبدیلی ہے۔اگر ڈیٹا حکومت کو کمزور اور مستحق خاندانوں کی درست نشاندہی کرنے اور انہیں زیادہ مؤثر انداز میں امداد فراہم کرنے میں مدد دے، تو یہ حقیقی عوامی قدر ہے۔اگر ڈیٹا کسانوں کو بروقت معلومات اور ہدفی معاونت فراہم کر سکے، تو یہ حقیقی ترقی ہے۔ڈیٹا کی بدولت تعلیم کو ہر طالب علم کی ضرورت کے مطابق بنانے، صحت کے نظام کو مضبوط کرنے اور ماحولیاتی اداروں کو اندازوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ہر الگورتھم کے پیچھے، ہر ڈیٹا بیس کے اندراج کے پیچھے اور ہر ٹوکن کے پیچھے کوئی سرد اور بے جان اعداد و شمار نہیں ہوتے۔ ہمارا اگلا مرحلہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کرنانہیں بلکہ ڈیٹا کو عملی طور پر استعمال کرنے کے بارے میں ہے۔ گوئی ژو نے یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اورپنجاب کو بھی اسی سمت میں آگے بڑھنا ہے۔پاکستان اور چین اپنی ہر موسم میں قائم رہنے والی دوستی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین زمینی اور جسمانی رابطوں کے ساتھ ساتھ ڈیٹا، جدت اور مشترکہ نظریات کی ایک نئی راہداری بھی تعمیر کریں۔پنجاب میں چینی کمپنیوں کے لیے بے پناہ مواقع نظر آرہی ہیں۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفراسٹرکچر کے قائدین کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ پنجاب کے ساتھ شراکت داری کریں۔ توانائی، کمپیوٹنگ، کلاؤڈ، کنیکٹیویٹی اور ٹوکَنائزیشن کے اس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کریں جو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو طاقت فراہم کرے گا۔پنجاب ٹیکنالوجی کے صارفین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی تخلیق اور جدت میں برابر کے شراکت دار بننا چاہتا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ تصورسے ڈیجیٹل معیشت کو جدت، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک طاقت بننا چاہیے۔ خواہش ہے کہ پاکستان اور چین مل کر اس وژن کو باہمی تعاون کے ایک نئے باب میں تبدیل کریں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گوئی یانگ، چین کے ”بگ ڈیٹا کیپٹل“ میں شرکت میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعثِ مسرت ہے۔صوبہ گوئی ژو کی عوامی حکومت اور چائنا انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو 2026 کے منتظمین کو اس تاریخی اور عالمی اجتماع کے انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔بگ ڈیٹا کا موضوع ہمیں ایک ایسے مستقبل کی جانب لے جاتا ہے جہاں ڈیٹا کو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق، قابلِ تبادلہ بنایا جائے گا۔ڈیٹا کومعاشی و عوامی قدر میں تبدیل کیا جائے گا۔ پرتپاک اور شاندار میزبانی کرنے پر دلی طور شکریہ اداکرتی ہوں۔






