خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کے دورانیہ ختم ہوئے 4 ماہ سے زیادہ وقت ہونے کے با وجود بھی صوبائی حکومت کیطرف سے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا اعلان بروقت نا کرنے سے عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق مقامی حکومتوں کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد 120 دنوں کے اندر اندر، مقامی حکومتوں کے انتخابات منقعد کرانا ہونگے مگر خیبرپختونخوا میں سالوں مقامی حکومتوں کے انتخابات تاخیر کا شکار ہوتے ہے جس سے ایک طرف مقامی حکومتوں کا تسلسل برقرار نہیں رہتا اور دوسری طرف عوام کے روز مرہ کے حل طلب مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سوالیہ نشان ہے۔
کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتطار خلیل کا بیان جاری کرتے ہوئے کہنا ہے کہ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا صوبائی صدر حمایت اللہ مایار، ترجمان عزیز اللہ مروت کی سربراہی میں ایک دفعہ پھر صوبائی حکومت کو دعوت دیتے ہے کہ آئیے مل بیٹھ کر ایک ایسا مضبوط مستحکم فعال مقامی حکومتوں کا نظام ترتیب دئے جس سے عوام کو گھر کی دہلیز پر سماجی و میونسپل خدمات فراہمی کیساتھ روزمرہ کے حل طلب مسائل گھر کہ دہلیز پر حل ہو سکے۔کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتطار خلیل کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دورانیہ کے ختم ہونے کے باوجود ابھی تک گزشتہ دورانیہ کے سابقہ مقامی حکومتوں کے نمائندوں کے اعزازیہ بقایاجات باقی ہے اس سلسلے میں بار بار یاد دہانی دینے کے باوجود صوبائی حکومت کا بلدیاتی نمائندوں کے بقایاجات ادائیگی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا صوبائی حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر بلدیات و دیہی ترقی، چیف سکٹریری خیبرپختونخوا سے پرزو اپیل کرتی ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فوری اعلان کیا جائے اور فی الفور محکمہ خزانہ کو ہدایات دی جائے کہ سابقہ بلدیاتی نمائندوں کے بقایاجات فوری جاری کیے جائے۔
انتطار خلیل کا مزید کہنا تھا کہ اپ دیکھے کہ خیبرپختونخوا میں بیورو کریسی، وزراء، ممبران صوبائی اسمبلی کے مراعات کبھی بند ہوئے ہے اور چند دنوں کے لیے بند ہو بھی تو عجیب سا واویلا شروع ہوجاتا ہے مگر خیبرپختونخوا میں تاریخ کا بدترین ظلم مقامی حکومتوں و انکہ نمایندوں کیساتھ کیا گیا ایک طرف بلدیاتی نمائندوں سے اختیارات واپس لیے گیے ترقیاتی فنڈز میں ایک روپے جاری نہیں کیے گیے تو دوسری طرف بلدیاتی نمائندوں کو قانونی و آئین کے مطابق جواعزایہ تھا اس سے بھی رکھا گیا ہے۔بروقت مقامی حکومتوں کے انتخابات سے ہی بہترین طرز حکمرانی نچھلی سطح پر قائم ہوسکتی ہے۔ مقامی حکومتوں کا نظام جتنا با اختیار ہوگا صوبائی حکومت پر اتنا ہی مسائل کے حل کا بوجھ کم ہوگا۔






