خیبرپختونخوا نے 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کرکے صوبے کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا،محمد سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے اسلام آباد میں ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل ہونے والے Khyber Pakhtunkhwa Revenue Mobilization and Public Resource Management Program (KPRMP) اور Khyber Pakhtunkhwa Spending Effectively for Enhanced Development (KP-SPEED) کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری خزانہ کامران احمد آفریدی، ورلڈ بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹرBolormaa Amgaabazar، اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں اور مختلف صوبائی محکموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دونوں پروگرام خیبرپختونخوا میں مالیاتی اصلاحات کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہیں، جنہوں نے صوبے میں محصولات کے نظام، سرکاری مالیاتی انتظام، ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو جدید، شفاف اور مؤثر بنایا ہے۔ان اصلاحات کے نتیجے میں صوبے کی اپنی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھ کر 150 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ای-اسٹیمپنگ، ای-رجسٹریشن اور دیگر ڈیجیٹل اصلاحات سے ٹیکس نظام مزید شفاف اور آسان ہوا۔ 127 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز میں جدید فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (FMIS) نافذ کیا گیا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں براہِ راست فنڈنگ، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ اور مالیاتی خودمختاری کے ذریعے خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ 5 ارب روپے سے زائد رقم براہِ راست سرکاری پرائمری سکولوں کو منتقل کی گئی، جبکہ ضروری ادویات کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات کے لیے اضافی وسائل بھی فراہم کیے گئے۔وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت ان اصلاحات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے عوامی وسائل کے شفاف، مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائے گی، تاکہ ہر شہری کو بہتر تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات اور جدید طرزِ حکمرانی کے ثمرات میسر آ سکیں۔مضبوط مالیاتی نظام، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت — خوشحال خیبرپختونخوا کی جانب ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ پبلک فنانشل مینجمنٹ و ریونیو موبلائزیشن ریفارمز تقریب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا نے 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کرکے صوبے کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔

صوبائی حکومت نے نئے ٹیکس عائد کیے بغیر موجودہ وسائل کے بہتر انتظام و اصلاحات سے ریکارڈ ریونیو حاصل کیا۔74 سال میں خیبرپختونخوا کا ریونیو صرف 62 ارب روپے تھا، اصلاحات کے نتیجے میں یہ 150 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے، ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحات سے 200 ارب روپے تک ریونیو حاصل کریں گے۔عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ، اصلاحات اور شفافیت کو فروغ دے رہے ہیں، کرپشن کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔حکومتی اصلاحات کے ذریعے کرپشن کے راستے بند کیے جا رہے ہیں، انہی اصلاحات کے باعث ریونیو میں تاریخی اضافہ ہوا۔خیبرپختونخوا میں سیاسی عزم موجود ہے، اسی لیے ہم مسلسل اپنے ریونیو اہداف سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

صوبائی حکومت رواں سال تمام محکموں کی سو فیصد ڈیجیٹائزیشن مکمل کرے گی۔سرکاری فائلوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ اہم عوامی خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔صوبائی حکومت سستی بجلی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی ٹرانسمیشن لائنز بچھانے پر کام کر رہی ہے۔اپنی ٹرانسمیشن لائنز کے ذریعے صنعت کاری کو فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔اپنی ٹرانسمیشن لائنز کے لیے مختلف شراکت داروں سے رابطے جاری ہیں کیونکہ یہ منصوبہ انتہائی قابل عمل ہے۔خیبرپختونخوا میں پاکستان کے مجموعی جنگلات کا 45 فیصد موجود ہے۔

صوبے کے 27 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں، اسے بڑھا کر 30 فیصد تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔صوبے میں موٹر ویز کو گرین ویز بنائیں گے، کلائمیٹ چینج سے خیبرپختونخوا بہت متاثر ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت اپنے ریونیو ہدف سے 1300 ارب روپے پیچھے رہی، ان کے پاس آمدن بڑھانے کا کوئی وژن نہیں۔وفاقی حکومت کی ترجیح پاکستان اور پاکستانی نہیں بلکہ قومی اثاثوں کی فروخت ہے۔جو لوگ اپنے کپڑے بیچنے کے دعوے کرتے تھے، آج وہ عوام کے کپڑے فروخت کرنے پر آ گئے ہیں۔وفاقی حکومت کی آمدن بڑھانے کی واحد پالیسی پٹرولیم لیوی میں اضافہ ہے۔عمران خان کے دور حکومت میں کورونا جیسے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی۔عمران خان کے دور میں صنعت اور زراعت دونوں شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی جبکہ مہنگائی بھی کم رہی۔رجیم چینج کے بعد چار برسوں میں ملکی جی ڈی پی گروتھ تقریباً 3 فیصد تک محدود ہوگئی۔پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر وفاقی حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی مؤثر پالیسی نہیں۔وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث برین ڈرین میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ملکی قرضہ چند سالوں میں 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔پاکستان کی برآمدات 35 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 70 ارب ڈالر ہیں، تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں۔ترسیلات زر کے باوجود ملک کو تقریباً 10 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ڈالر کی قدر مصنوعی طور پر 280 روپے برقرار رکھی گئی ہے، آزاد مارکیٹ میں جانے سے قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔میں نے متعدد قومی فورمز پر وفاقی حکومت سے تجارتی خسارہ کم کرنے کی پالیسی کے بارے میں سوال کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں و ترجیحات کے باعث کسان خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔جب دنیا مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی تھی، عمران خان کی پالیسیوں نے پاکستان کو ملکی تاریخ کی بلند ترین معاشی شرح نمو دی۔ورلڈ بینک اور محکمہ خزانہ کی معاونت اور اصلاحاتی اقدامات قابل تحسین ہیں جنہوں نے تاریخی کامیابی ممکن بنائی۔

جواب دیں

Back to top button