سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے برطانوی سرمایہ کاروں اور سندھ میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کو درپیش ضابطہ جاتی اور انتظامی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سرمایہ کار دوست اصلاحات، ضابطہ جاتی طریقہ کار کو آسان بنانے اور پالیسیوں میں تسلسل کے عمل کو جاری رکھے گا۔وزیر اعلیٰ نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن کے تعاون سے منعقدہ سندھ میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں اور برطانیہ میں قائم اداروں کے اعلیٰ سطح کے پاک برطانیہ راؤنڈ ٹیبل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شفاف، قابل پیش گوئی اور عالمی سطح پر مسابقتی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، سرکاری و نجی شعبے کے باہمی روابط کو مضبوط بنانے اور سندھ کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ترجیحی منزل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں معروف برطانوی کمپنیوں، کثیر القومی کارپوریشنز، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)، برطانوی ہائی کمیشن کے سینئر حکام اور صوبائی وزرا و سیکریٹریز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو درپیش چیلنجز، ضابطہ جاتی اصلاحات اور کاروبار کرنے میں آسانی بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن، ڈائریکٹر ٹریڈ وینیسا مونٹگمری، کونسلر اور گروپ ہیڈ اکنامکس اینڈ ٹریڈ ایلینا مائلونا، ماہر اقتصادیات میران انالنگم، پرائیویٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مریم ریاض، سیاسی مشیر ہدا اکرام، ٹریڈ ایڈوائزر سارہ پینگ، ڈپٹی ٹریڈ ڈائریکٹر زینب محمود کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ہیلیون، برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ، جی ایس کے، ریکٹ، یونی لیور، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، یو بی ایل، ایسٹرا زینیکا، او آئی سی سی آئی اور دیگر معروف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔سندھ حکومت کی جانب سے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، وزیر خوراک مخدوم محبوب زمان، وزیر اعلیٰ کے سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور محکمہ خزانہ، صنعت، محنت، ٹرانسپورٹ، سماجی تحفظ اور سرمایہ کاری کے سینئر افسران شریک تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ راؤنڈ ٹیبل کا مقصد صرف سرمایہ کاروں کے خدشات سننا نہیں بلکہ عملی اور مقررہ مدت کے اقدامات کے ذریعے انہیں حل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس کا ایک واضح مقصد تھا: سننا۔ ہم نے آپ کے خدشات براہ راست سنے ہیں اور میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف کاغذ پر درج نکات نہیں ہیں۔ میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ان شکایات کو فوری اور ٹھوس اقدامات کے متقاضی ہنگامی معاملات کے طور پر لیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے ضابطہ جاتی طریقہ کار، ٹیکس، بنیادی ڈھانچے، یوٹیلیٹی سہولیات اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری اور ترقی کو متاثر کرنے والی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کاروباری اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔انہوں نے کہا لپ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی ذمہ داری استحکام، شفافیت اور تسلسل فراہم کرنا ہے۔ ہماری توجہ صرف نئی سرمایہ کاری راغب کرنے پر نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے پر بھی ہے کہ ہمارے موجودہ سرمایہ کار سندھ میں ترقی کریں اور اپنی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دیں۔مراد علی شاہ نے انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور ادارہ جاتی رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے صوبے میں جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جو قابل پیش گوئی، مؤثر اور عالمی سطح پر مسابقتی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرمایہ کار ہمیں صرف ریگولیٹرز نہیں بلکہ شراکت دار سمجھیں۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برطانوی کمپنیوں نے سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کارپوریٹ بہترین طریقہ کار کے ذریعے سندھ کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کاروبار کے لیے کھلا ہے۔ ہم ان برطانوی کمپنیوں کے اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے ہمارے صوبے پر کیا ہے اور باہمی احترام، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔اس سے قبل وزیر اعلیٰ کے سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے لیے معاون خصوصی سید قاسم نوید نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے راؤنڈ ٹیبل کو سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے اور صوبے کے سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے نتائج پر مبنی پلیٹ فارم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ مذاکرات ٹھوس نتائج اور ادارہ جاتی بہتری میں تبدیل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ رابطہ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کے نتیجے میں واضح اقدامات، متعین ذمہ داریاں اور قابل پیمائش پیش رفت سامنے آئے۔
قاسم نوید نے اعلان کیا کہ حکومت مسائل کے لحاظ سے ایک ایکشن میٹرکس تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں متعلقہ محکموں کو مسائل تفویض کرنے کے ساتھ ساتھ عمل درآمد کے لیے فوکل پرسنز اور مدت بھی مقرر کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد صرف انفرادی معاملات حل کرنا نہیں بلکہ بار بار سامنے آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور ادارہ جاتی و پالیسی اصلاحات کے ذریعے انہیں دور کرنا بھی ہے۔برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور وزیر اعلیٰ کی شرکت کو سرمایہ کاروں کی حمایت اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سندھ کے عزم کا مضبوط اظہار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفد میں کراچی اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی دونوں ٹیموں کے افسران شامل تھے، جو اس اہمیت کی عکاسی کرتا ہے جو برطانیہ سندھ اور پاکستان کے ساتھ اپنی معاشی شراکت داری کو دیتا ہے۔مس بلیک برن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی اس بات کا مظہر ہے کہ صوبائی حکومت کراچی اور سندھ بھر میں کام کرنے والی کمپنیوں کو درپیش مسائل کے حل اور سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست رابطے کے لیے آمادہ ہے۔صوبائی معیشت میں برطانوی کاروباری اداروں کے نمایاں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے سرمایہ کاری اور ضابطہ جاتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کی کوششوں کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے اور کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے 500 سے زائد اصلاحاتی اقدامات حوصلہ افزا پیش رفت ہیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط اور مزید سرمایہ کاری کو راغب کریں گے۔سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ قابل پیش گوئی، شفاف اور مسابقتی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات ضروری ہیں۔ریمیٹ/ایف سی ڈی او کی جانب سے پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر ایک پریزنٹیشن میں ملک کی معاشی صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرنے والے چیلنجز دونوں کو اجاگر کیا گیا۔پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ اگرچہ 74.1 فیصد سرمایہ کار پاکستان کو نئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے ایک منزل کے طور پر تجویز کریں گے، تاہم 95.1 فیصد سرمایہ کار کاروباری خطرات کو اب بھی درمیانے سے بلند درجے کا تصور کرتے ہیں جو ملک کے سرمایہ کاری کے منظرنامے میں ایک اہم تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان کی مسابقتی درجہ بندی 100 میں سے 49.3 رہی، جبکہ بنگلہ دیش 63، ویتنام 71، انڈونیشیا 78، متحدہ عرب امارات 81، ملائیشیا 83، بھارت 92 اور چین 100 کے اسکور پر رہے۔نتائج کے مطابق ایشیا میں اس وقت سرمایہ کاری کرنے والی 48 کثیر القومی کمپنیوں کے مرکزی اداروں میں سے صرف 25 نے پاکستان کو اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ برطانوی کمپنیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے متعلق ایک الگ مطالعے میں تقریباً 300 کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا اور چھ شعبوں میں 70 سے زائد ضابطہ جاتی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔پریزنٹیشن میں پالیسیوں کی پیش گوئی، ٹیکس اور کاروبار کرنے کی لاگت کو سرمایہ کاروں کے لیے سب سے اہم خدشات قرار دیا گیا۔ او آئی سی سی آئی کے اعداد و شمار میں پالیسیوں کی پیش گوئی کو سب سے بڑا خدشہ قرار دیا گیا، جس کے بعد ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس کا بوجھ، پالیسی پر عمل درآمد میں خلا، کاروبار کرنے کی لاگت اور سرمایہ کاری پالیسی کی وضاحت اہم خدشات میں شامل رہے۔پریزنٹیشن دینے والے ماہرین نے زور دیا کہ سرمایہ کار اضافی مراعات کے بجائے حکمرانی میں تسلسل، پیش گوئی اور قابل اعتماد نظام کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جبکہ ضابطہ جاتی صوابدید اور عمل درآمد میں موجود خلا بدستور بڑے خدشات ہیں۔شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان نے گزشتہ 14 ماہ کے دوران 558 اصلاحاتی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن سے کاروباری اداروں کے لیے 468.7 ارب روپے سے زائد کی تخمینہ شدہ بچت ہوئی ہے۔ زراعت، لاجسٹکس، ادویہ سازی، بینکاری، کارپوریٹ ریگولیشن، زرمبادلہ، ٹیکس، ماہی گیری، ڈیری اور مشروبات کے شعبوں پر مشتمل سات اصلاحاتی پیکیجز پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2026 کے لیے مزید تین پیکیجز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔پریزنٹیشن میں اصلاحاتی عمل میں سندھ کے مرکزی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ صوبہ کاروباری ماحول کے 10 بڑے شعبوں میں سے 6 میں اصلاحات کی مشترکہ قیادت کر رہا ہے اور عالمی بینک کے بی ریڈی فریم ورک کے تحت شناخت کیے گئے 397 اعلیٰ اثر والے اشاریوں میں سے 259 میں براہ راست شامل ہے۔حکام نے بتایا کہ اصلاحاتی ایجنڈا کاروباری اداروں کے قیام، محنت، ٹیکس، یوٹیلیٹی سہولیات، تجارت، مسابقت، تنازعات کے حل، مالیاتی خدمات اور دیوالیہ پن سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ تجارت، ٹیکس اور تنازعات کے حل میں کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔پریزنٹیشن میں اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے طرز حکمرانی کے اصولوں کے مطابق اہم ضابطہ جاتی اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بعض شعبوں میں پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مسلسل ضابطہ جاتی جدید کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر برٹش انٹرنیشنل سپورٹ ٹیم (بی آئی ایس ٹی) کے نمائندوں نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بدلتی ہوئی معاشی شراکت داری کو اسٹریٹجک ترجیحات اور عمل درآمد کے طریقہ کار سے قابل پیمائش نتائج اور صنعتی شعبے کی رائے تک کے سفر کے طور پر بیان کیا اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی تجاویز کا سلسلہ جاری رکھیں۔






