جوں جوں ہمارے ملک میں آبادی کا رخ بڑے شہری علاقوں کی طرف ہو رہا ہے۔ ان شہری علاقوں میں آبادیوں کا پھیلاؤ بے ہنگم انداز میں بڑھ رہا ہے۔کاروباری سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں اور بڑے بڑے کمرشل پلازے،مارکیٹیں بے حساب بڑھ رہی ہیں۔حالات یوں ہو گئے ہیں کہ بڑے شہروں کے نواحی علاقوں میں جائیں تو آپ کو مرکزی سٹرکوں پر کوئی خالی جگہ شازو نادر ہی نظر آئے گی۔کمرشل مراکز،مارکیٹس،دوکانیں حد نگاہ تک نظر آ جاتی ہیں۔ساری جائدادیں جو ان سٹرکوں پر واقع تھیں۔وہ کمر شل بلڈنگز میں تبدیل ہو گئی ہیں۔بلکہ کئی علاقوں میں تو آپ کو بلند بالا پلازے عام مل جاتے ہیں۔عام رہائشی محلے بھی کمرشل مراکز بن گئے ہیں۔لاہور میں اچھرہ،ٹاؤن شپ،ملتان روڈ،یتیم خانہ چوک،ساندہ،باغانپورہ۔غرضیکہ بے شمار علاقے اب کمر شل علاقے ہیں۔بڑے شہروں کی بات نہیں،چھوٹے شہروں میں بھی کمر شلائزیشن کا رجحان ہے۔مگر کیا تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور احتیاطی اقدامات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔کیا حکومتی سطح پر ریگرلیٹری سنڈرڈز کی پابندی ہو رہی ہے اور کیا بلڈنگ کنٹرول اور ڈیزائنگ کے معیارات کی پابندی ہو رہی ہے۔ اورسب سے بڑا سوال کہ ذمہ دار ادارے اور اتھارٹیاں کتنی فعال متحرک اور نگرانی پر معمور ہیں۔
ملک کے کئی شہروں میں کمر شل بلڈنگز میں آگ لگنے کے واقعات ہو چکے ہیں۔یہ واقعات صرف بڑے پلازوں میں ہی نہیں ہوتے بلکہ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بھی ہو چکے ہیں۔کئی شہروں میں تو اس طرح کی آتش زنی کے واقعات میں کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ہر کوئی افسوس کا اظہار کرتا ہے۔اور پھر حکومت معاوضوں کا اعلان کرتی ہے اور کوئی کاروائی رسمی انداز کی تحقیقات ہوتی ہیں اور پھر خاموشی سے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور کسی نئے حادثے تک خاموشی چھا جاتی ہے۔ابھی حالیہ واقعہ کراچی صدر بازار کا ہے۔جہاں ایک بڑے پلازے میں اندونہاک حادثے میں کئی ایک قیمتی جانیں جن میں گاہک،دوکاندار اور آگ بجھانے والے بھی شامل تھے اور کروڑوں کا مالی نقصان بھی ہوا۔اب طرح طرح کے الزام تراشیاں اور سیاسی بیانات آ رہے ہیں۔غیر جانبدار اور کھلی تحقیقات کی ضرورت ہے۔محض کاغذی رپورٹوں سے بات نہیں چلے گی۔یہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں۔لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔اور اندیشہ ہے کہ کبنی بھی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے یا ہمارا رویہ ان اقدامات بارے بڑا عامیانہ ہے اور یہ رویہ صرف پلازوں اور بڑی عمارتوں تک محدود نہیں ہے۔بلکہ آپ گلی محلوں میں بجلی کے تاروں کے جھنڈ دیکھ کر اندازہ لگا لیں۔بڑی سڑکوں پر کھلے مین ہول۔ٹوٹ پھوٹ کا شکارسٹرکیں،گلیاں،سڑکوں پر لگے بورڈز(آرائشی،نشرواشاعت) سٹرکوں پر لگے بے ہنگم درخت بھی اسی غفلت اور رویہ کا اظہار ہیں۔ذمہ دار کون ہے۔ہم عوام خود بھی ذمہ دار ہیں۔اپنی انکم بڑھانے کے لئے اپنی عمارات میں بلا منظوری ڈیزائن و اضافے کرتے ہیں۔اگر منظور شدہ نفشے کے مطابق چار دوکانیں بنانا ہوتی ہیں ہم تبدیلیاں کر کے انکی تعداد8کر دیتے ہیں۔ہم خود ہی اپنی مشکلات کو جنم دیتے ہیں جتنا گنجان علاقہ ہو گا۔اتنا ہی گنجان رہایشی مکین نظر آئیں گے۔اور پھر نگران اور ذمہ دار اداروں کی غفلت ہے اور مجرمانہ خاموشی ہے کہ وہ وشوت لیکر رسک کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اور یہ سلسلہ نیچے سے لیکر اوپر تک پھیلاؤ ہوا ہے۔اس لئے کنٹرول موثر نہیں ہے۔اور ایک مسلہ جو بنیادی ہے کہ ایسے اداروں کی اہلیت صلاحیت ضرورت کے مطابق نہیں ہے ان کی استعداد محدود ہے۔ قدیم ہے۔ جدیدیت کی ضرورت ہے۔فائر فائٹنگ ساتویں آٹھویں اور نویں دہائی میں مقامی حکومتوں کے لازمی فرائض میں شامل تھا۔ابھی بھی رسمی طور پر ہے مگر پنجاب کی حد تک تو یہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں آ چکا ہے۔اب آتش زنی کی روک تھام کے لئے ہم1122 کی طرف دیکھتے ہیں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن جس کا اہم فنکشن تھا نہ تو ان کے پاس مطلوبہ صلاحیت باقی بچی ہے اور نہ جدید ضروریات کے مطابق وسائل ہیں۔ہمارے ملک میں شہری علاقوں میں آگ بجھانے کے لئے پانی سپلائی کا معقول انتظام نہیں ہے۔بڑی سڑکوں اور چوکوں میں ہیوی سپلائی کی کوئی مناسب اور معقول شکل نہیں ہے۔اب ہمارے ریگرلیٹری تقاضوں میں صوبائی محکمہ ماحولیات سے بڑی بلڈنگز کی تعمیر سے قبل سرٹیفکیٹ لینا اورFPA منظوری کا برملا اظہار تو لازمی کر دیا گیا ہے۔مگر بوقت ضرورت پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کی طرف توجہ نہیں۔یقینا کوئی رسمی اجازت ہو گی۔مگر پابندی کی یقینی بنانا ہمارے اداروں اور ذمہ داران کی غفلت کی نظر ہو گیا۔آپ غور کریں کراچی میں گل پلازہ کے اندر یا قریب پانی کی آسان فراوانی ہوتی، تو شاید قابو پانے میں آسانی ہوتی۔اور پھر اگر منظوری کم دوکانوں اور کم منزلوں کی تھی تو اضافہ کیسے ہوا۔نکاسی کے متبادل راستے کتنے تھے۔یہ سوالات ہیں۔ جن کا جواب کون دے گا۔اور اگر خلاف ورزی ہوئی نقشہ کی یا قواعد کی تو کون ذمہ دار؟مقامی حکومتوں بالخصوص شہری علاقوں میں مقامی حکومتوں کو نا گہانی آفات سے نپٹنے کی صلاحیت اور استعداد کار جدید وسائل کے ساتھ ہم آہنگ بنانا ہو گا۔کیونکہ دنیا بھر میں ان آفات کا فوری اور آسان مقابلہ مقامی حکومتوں کے توسط سے ہوتا ہے۔ہمیں بھی ان واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے جدید کاری کی طرف دھیان دینا ہو گا۔یہ صرف سازو سامان کی جدید کاری نہیں،بلکہ ادارہ جاتی مضبوطی کا متقاضی بھی ہے۔






