بنوں(بلدیات ٹائمز) واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی کمپنی بنوں کے 15 ملازمین کی خدمات واسا اتھارٹیز بنوں کی طرف سے واپس TMA بنوں کے حوالہ کرنے اور واسا بنوں کے ملازمین کو گزشتہ چار مہینوں کی تنخواہوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے بلدیہ بنوں کے ملازمین جنکی خدمات ڈیپوٹیشن پر واسا کمپنی بنوں کے پاس ہیں نے پریس کلب بنوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور چار ماہ کی تنخواہوں کی عدم فراہمی اور واسا اتھارٹیز کے طرف سے ملازمین کی خدمات بلدیہ بنوں کو واپس کرنے کے احکام کو مسترد کرتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واسا اتھارٹیز غریب اور کم تنخواہ والے ملازمین کے ساتھ ظلم اور ناانصافی برت رہی ہے ملازمین کے بچے گزشتہ چار مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بھوک و افلاس کی وجہ سے فاکوں سے دوچار ہیں جب کہ جن ملازمین کی خدمات واسا اتھارٹیز نے بلدیہ کو واپس کی ہیں وہ بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور بلدیہ/ واسا کی طرف سے ڈیوٹی پر نہ رکھنے اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سخت ذھنی اذیت اور مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت علی کیانی ، صدر حاجی انور کمال مروت، چئیرمین محبوب اللہ ، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم اور جنرل سیکریٹری اسد محمود نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام ، واسا اتھارٹیز کے چیئرمین اور بلدیہ بنوں کی ھٹ دھرمی اور بے حسی اور واسا بنوں کے ملازمین کو درپیش مسائل کے حل نہ کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان میں واسا کے ملازمین کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے فاکوں سے دوچار ہونا کسی المیے سے کم نہیں ہے اور ملازمین کی خدمات واپس بلدیہ کے حوالے کرنے کے حکم جاری کر کے انہیں سخت ذھنی اذیت سے دوچار کر کے سخت ناانصافی اور خلاف ضابطہ اقدام اٹھاکر بلدیاتی ملازمین میں بے چینی پھیلائی جا رہی ہے۔
فیڈریشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا ظفرالاسلام خٹک ، ریجنل میونسپل آفیسر بنوں ، بلدیہ بنوں کے اعلیٰ حکام اور چئیرمین/چیف ایگزیکٹو آفیسر واسا کمپنی بنوں سے معاملہ کا فوری نوٹس لینے اور ملازمین کو درپیش مشکلات کے ازالہ ، تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا بندوست کرنے اور ملازمین کی بلدیہ کو واپسی کے احکام کو بلا تاخیر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔





