ڈبلیو ایس ایس سیز ملازمین کا ملازمتی تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے پشاور اور دیگر ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز کے شہروں میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب، ترسیل آب اور شہری ماحول کی بہتری کے لئے اہم خدمات سرانجام دے رہیں ہیں۔ ان اداروں کے ملازمین اور افسران نے نہ صرف معمول کے حالات میں بلکہ وبائی امراض، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں بھی عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ شہری زندگی کو بہتر بنانے میں ان ملازمین کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹیز کے ملازمین اور افسران کو آج بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے متعدد خدشات لاحق ہیں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ مالی تحفظ، پنشن کے حقوق اور مستقل سروس اسٹرکچر کا فقدان ہے۔ ایسے ملازمین جو اپنی زندگی کے بہترین سال عوامی خدمت کے لئے وقف کرتے ہیں، ان کا یہ حق بنتا ہے کہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد باوقار زندگی گزارنے کے لئے مناسب مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا نے ملازمین کے مستقبل کے تحفظ کے لیے Contributory Provident Fund Rules 2022 متعارف کروائے ہیں۔ اسی اصولِ انصاف اور مساوات کے تحت WSSP ملازمین کی یہ درخواست قابلِ غور ہے کہ چونکہ ان میں سے اکثر ملازمین مذکورہ قواعد کے نفاذ سے قبل بھرتی ہوئے ہیں، اس لئے انہیں جنرل پراویڈنٹ فنڈ اور روایتی پنشن کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ اگر قانونی یا انتظامی وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو، تو کم از کم انہیں CP Fund Rules 2022 کے تحت شامل کرکے ان کے مالی مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بنیادی مسئلہ WSSCs کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے متعلق ہے۔ موجودہ کمپنی ماڈل میں ملازمین کے سروس اسٹرکچر، ترقی، مستقلی اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ WSSCs ملازمین کی جانب سے اس ادارے کو ایک مستقل اور خودمختار اتھارٹی کا درجہ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔خیبر پختونخوا کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عوامی مفاد اور انتظامی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے خودمختار اتھارٹیز قائم کی گئی ہیں۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی وغیرہ اس کی ایک نمایاں مثال ہیں، جن کے قیام کا مقصد شہری ترقی، انتظامی بہتری اور ادارہ جاتی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ اتھارٹی کی حیثیت سے اداروں کو ایک واضح قانونی ڈھانچہ، سروس رولز اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا بہتر نظام میسر آتے ہیں۔اسی تناظر میں WSSCs کو بھی ایک مستقل اتھارٹی کا درجہ دیا جائے تو اس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی، شفافیت اور انتظامی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملازمین اور افسران کو بھی سروس اسٹرکچر، ترقی، پنشن کے حقوق اور دیگر ملازمتی حقوق کے حوالے سے تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ اقدام ادارے کے استحکام اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔یہ مطالبہ کسی تصادم یا احتجاج کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ان ملازمین کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنائے جو برسوں سے عوامی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ معاشی تحفظ اور ملازمت کا استحکام نہ صرف ملازمین کا حوصلہ بڑھاتا ہے بلکہ اداروں کی مجموعی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا WSSCs ملازمین کی اس درخواست پر ہمدردانہ اور مثبت غور کرے۔ جنرل پراویڈنٹ فنڈ یا CP Fund Rules 2022 کے تحت مالی تحفظ کی فراہمی، محفوظ سروس اسٹرکچر کی تشکیل اور WSSCs کو مستقل اتھارٹی کا درجہ دینا ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف ہزاروں ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنائیں گے بلکہ ادارے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کریں گے۔

وہ ملازمین جو ہر موسم، ہر مشکل اور ہر ہنگامی صورتحال میں شہری آبادیوں کو صاف اور قابلِ رہائش رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، یقیناً اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک محفوظ، باوقار اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جائے۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چئرمین محبوب اللہ ، صدر حاجی انور کمال خان ، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم اور خادم اعلیٰ ناصر خان آفریدی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی ظفرالاسلام خٹک اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا سے ہرزور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا اس اہم مسئلے کے حل کے لیے دانشمندانہ ، دور اندیش اور اصلاح احوال کے فیصلے کرے تاکہ عوامی خدمت کے ان اہم اداروں اور ان کے ملازمین کا مستقبل محفوظ اور مستحکم ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button